Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنگ کے خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ تازہ ایرانی تجویز پر ناخوش ہیں: امریکی عہدیدار

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پچھلے ہفتے اسلام آباد پہنچے تھے تاہم امریکی وفد نہ آنے کی وجہ سے مذاکرات کا دوسرا دور نہیں ہو پایا تھا (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ کے ایک سرکاری عہدیدار نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی تازہ تجویز سے ناخوش ہیں جو دو ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے حل کے لیے پیش کی گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس پیش رفت سے اس تنازع کے حل کی امیدیں کم ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ آیا ہے۔
ایران کی تجویز میں کہا گیا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو تب تک مؤخر رکھا جائے جب تک جنگ ختم نہیں ہو جاتی اور جہاز رانی سے متعلق تنازعات حل نہیں ہو جاتے۔
امریکی صدر کی پیر کو مشیروں کے ساتھ ہونے والی ملاقات سے آگاہی رکھنے والے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایرانی تجویز امریکہ کو مطمئن کرنے کے لیے کافی نہیں کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ جوہری معاملات پر ابتدا میں ہی بات ہونی چاہیے اور اسی وجہ سے صدر ٹرمپ نئی تجویز سے خوش نہیں ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترمان اولیویا ویلز کا کہنا ہے کہ ’امریکہ پریس کے ذریعے بات چیت نہیں کرے گا اور ہماری سرخ لائنز بھی واضح ہیں جبکہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ فروری میں شروع ہونے والی جنگ کو ختم بھی کرنا چاہتی ہے۔‘
2015 میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد ایران کے جوہری پروگرام میں تیزی سے کمی آئی تھی جو کہ طویل عرصے سے جاری تھا تاہم یہ معاہدہ صدر ٹرمپ کے پہلی بار عہدہ سنبھالنے کے بعد اس وقت ٹوٹ گیا تھا جب انہوں نے یکطرفہ طور پر معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔

آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی تجارت تاحال بند ہے (فوٹو: اے ایف پی)

امن کے لیے ہونے والی کوششیں اس وقت معدوم ہوتی دیکھی گئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کُشنر کے اسلام آباد کے دورے کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا جہاں ایرانی وفد پہنچ چکا تھا۔
اس کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے عمان اور روس کے دورے بھی کیے جہاں انہوں نے صدر ولادیمیر ٹرمپ سے ملاقات کی اور اپنے دیرینہ اتحادی کی حمایت حاصل کی۔

تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ

فریقین چونکہ اب بھی ایک دوسرے سے کافی دور دکھائی دے رہے ہیں اس لیے تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہونا شروع ہوا ہے اور منگل کو اس میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔

28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی میں ’جنگ بندی‘ ہو چکی ہے تاہم مکمل خاتمے کا معاہدہ ابھی ہونا باقی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

فوریکس ڈاٹ کام سے وابستہ کاروباری تجزیہ کار فواد رزاقزادہ کا کہنا ہے کہ ’تیل کے تاجروں کے لیے بیان بازی سے زیادہ آبنائے ہرمز کے راستے خام تیل کی حقیقی سپلائی اہمیت رکھتی ہے اور اس وقت یہ سپلائی کافی محدود ہے۔‘
سمندری ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ دنوں کے دوران امریکہ کی ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کے تیل سے بھرے کم از کم چھ ٹینکروں کو زبردستی واپس ایران بھیجا گیا جس سے جنگ کا تیل کی تجارت پر اثر ظاہر ہوتا ہے۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکہ کی جانب سے ایران کے ٹینکروں کی ضبطی کو ’سمندری سفر کے دوران قزاقی اور مسلح ڈکیتی کو قانونی حیثیت دینے‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔

 

شیئر: