Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے اپنی آواز اور تصویر کو ٹریڈ مارک کیوں کروایا؟

عالمی شہرت یافتہ پاپ گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ممکنہ غلط استعمال سے بچاؤ کے لیے اپنی آواز اور تصویر کو ’ٹریڈ مارک‘ کے ذریعے محفوظ بنانے کا قدم اٹھایا ہے۔
ٹیکنالوجی اور اس سے جڑے معاملات پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ سی نیٹ کے مطابق گلوکارہ نے جمعے کو تین ٹریڈ مارک درخواستیں دائر کرائیں، جن میں دو آواز سے متعلق اور ایک تصویر سے متعلق ہے۔
آواز سے متعلق درخواست میں ’ہے اِٹس ٹیلر سوئفٹ‘ اور ’ہے اِٹس ٹیلر‘ شامل ہیں جبکہ تصویر کے معاملے اپنی اس تصویر کو ٹریڈ مارک کے طور پر جمع کرایا ہے جس میں وہ اپنے مشہور ’ایراس ٹور‘ کے دوران گلابی سٹیج پر چمکدار لباس میں گٹار تھامے نظر آ رہی ہیں۔
انٹرنیٹ پر اے آئی ڈیپ فیکس کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر یہ اقدام غیر متوقع نہیں، کیونکہ ٹیلر سوئفٹ پہلے بھی جعلی ویڈیوز اور مواد کا سامنا کر چکی ہیں، جن میں 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مبینہ حمایت سے متعلق ایک جعلی ویڈیو بھی شامل تھی۔
ٹیلر سوئفٹ اس نوعیت کا قدم اٹھانے والی پہلی شخصیت نہیں ہیں۔ اداکار میتھیو میک کوناہے بھی اپنی مشہور ڈائیلاگ ’آل رائٹ، آل رائٹ، آل رائٹ‘ کو ٹریڈ مارک کروا چکے ہیں، جو انہوں نے فلم ڈیزڈ اینڈ کنفیوزڈ میں گایا تھا۔
ٹریڈ مارک کے ماہر وکیل جوش گربن کے مطابق کسی مشہور شخصیت کی آواز کو بطور ٹریڈ مارک رجسٹر کرانا ایک نیا قانونی پہلو ہے جسے عدالتوں میں ابھی مکمل طور پر آزمایا نہیں گیا۔ عام طور پر موسیقار اپنی تخلیقات کے تحفظ کے لیے کاپی رائٹ کا سہارا لیتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی صارفین کو ایسی نئی آوازیں بنانے کی اجازت دیتی ہے جو کسی فنکار کی آواز سے مشابہہ ہوں، بغیر کسی اصل ریکارڈنگ کی نقل کیے، جس سے قانونی خلا پیدا ہو رہا ہے اور ٹریڈ مارک اس خلا کو پر کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
جوش گربن کے مطابق ٹریڈ مارک ایسی کسی بھی چیز کو روک سکتا ہے جو رجسٹرڈ نشان سے مشابہ ہو اور یہ مستقبل میں اے آئی کے خلاف مشہور شخصیات کے لیے ایک مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔
گلوکارہ کی جانب سے اٹھائے گئے قدم پر ان کا تبصرہ جاننے کے لیے درخواستیں بھجوائی گئیں تاہم ان کی طرف سے فوری طور پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

شیئر: