Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں تیل کے سٹریٹجک ذخائر کا فقدان، توانائی کے تحفظ پر نئے سوالات

سٹریٹجک ذخائر سے مراد وہ ذخیرہ ہے جو حکومتِ وقت ہنگامی حالات کے لیے محفوظ کرتی ہے. (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کے پیٹرولیم مصنوعات کے ’سٹریٹجک ذخائر‘ کی عدم موجودگی سے متعلق بیان نے ملک میں توانائی کے تحفظ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ سٹریٹجک ذخائر کے حوالے سے ماضی میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث پاکستان اپنی ایندھن کی ضروریات کے لیے تاحال صرف کمرشل کمپنیوں کے ذخائر پر انحصار کر رہا ہے۔
وزیرِ پیٹرولیم کے مطابق پاکستان کو کمرشل ریزرو، یعنی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی قانونی ذمہ داری، پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے، جس کے تحت ہر کمپنی پابند ہے کہ وہ اپنے پاس کم از کم 21 دن کا سٹاک رکھے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان کے پاس اس وقت سٹریٹجک ذخائر موجود نہیں ہیں، جو صرف جنگی یا ہنگامی حالات کے لیے مخصوص ہوتے ہیں، تاہم حکومت اب اس منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سٹریٹجک ذخائر کی عدم موجودگی کے باوجود اب تک ایندھن کی ضروریات پوری کرنے میں کامیاب رہا ہے اور موجودہ نظام سپلائی میں کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کو روکنے کے لیے مکمل طور پر مستعد ہے۔
اس رپورٹ میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ایندھن کے کمرشل اور سٹریٹجک ذخائر ایک دوسرے سے کیسے مختلف ہیں، پاکستان اس حوالے سے اب تک پیش رفت کیوں نہیں کر سکا اور ان ذخائر کا نہ ہونا مستقبل میں کس قسم کے خطرات کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

کمرشل اور سٹریٹجک ذخائر میں فرق

سٹریٹجک ذخائر سے مراد وہ ذخیرہ ہے جو حکومتِ وقت ہنگامی حالات، جیسے جنگ، سمندری ناکہ بندی یا عالمی سپلائی میں کسی بڑی رکاوٹ کے لیے محفوظ کرتی ہے۔ یہ تیل عام مارکیٹ میں فروخت کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اسے خالصتاً قومی سلامتی کے مقاصد کے لیے محفوظ رکھا جاتا ہے۔
اس کے برعکس، کمرشل ذخائر وہ تیل ہوتا ہے جو آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (جیسے پی ایس او، شیل وغیرہ) اپنے پاس رکھتی ہیں۔ قانون کے مطابق ہر کمپنی کے لیے 21 دن کا سٹاک رکھنا لازمی ہے تاکہ ملک میں روزمرہ کی سپلائی برقرار رکھی جا سکے۔ یہ ذخائر تجارتی بنیادوں پر روزمرہ کے استعمال کے لیے ہوتے ہیں۔
پاکستان کے پاس تاحال وہ سٹریٹجک ریزرو موجود نہیں ہیں جو امریکہ، انڈیا اور چین سمیت کئی یورپی ممالک کے پاس ہیں۔ پاکستان اپنی ضرورت کا تقریباً 80 فیصد تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے سپلائی لائن منقطع ہونے کی صورت میں ملک کے پاس صرف 20 سے 25 دن کا ایندھن باقی رہ جاتا ہے۔

وزیرِ پیٹرولیم نے حقیقت کو تسلیم کیا

پاکستان کے آئل اینڈ گیس سیکٹر پر گہری نظر رکھنے والے ماہر محمد عارف سمجھتے ہیں کہ دنیا کے مختلف ممالک میں چھ ماہ سے زائد کے سٹریٹجک ذخائر موجود ہوتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں شاید ایک دن کا بھی سٹریٹجک ریزرو موجود نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا تمام تر انحصار کمپنیوں کے اس تیل پر ہے جو انہیں لائسنس کے تحت تین ہفتوں کے لیے رکھنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق سٹریٹجک ریزرو صرف ریاست کے کنٹرول میں ہوتے ہیں، چاہے وہ خام تیل کی صورت میں ہوں یا ریفائنڈ مصنوعات کی شکل میں۔

کیا نجی شعبہ سٹریٹجک ریزرو بنا سکتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں محمد عارف نے بتایا کہ حکومت نجی شعبے کے ذریعے بھی یہ ہدف حاصل کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، جن ممالک سے ہم خام تیل منگواتے ہیں، انہیں پاکستان میں اپنی سٹوریج بنانے کی پیشکش کی جا سکتی ہے۔ وہ یہاں سے تیل فروخت بھی کریں، لیکن ہنگامی حالت میں ریاست (پاکستان) کے پاس یہ قانونی اختیار ہو کہ وہ ان ذخائر کو قومی مفاد میں استعمال کر سکے۔ اس طرح حکومت بڑے اخراجات سے بچتے ہوئے بھی یہ ہدف حاصل کر سکتی ہے۔

’سٹریٹجک ذخائر کا قیام کوئی نیا معاملہ نہیں

توانائی کے امور کے علی خضر نے اردو نیوز کو بتایا کہ سٹریٹجک ذخائر کے قیام کی تجویز کوئی نئی نہیں ہے اور 90 کی دہائی میں بھی اس پر بحث ہوتی رہی ہے، تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔
اُن کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس پر سرمایہ کاری کرنی تھی اور سٹوریج بنانا تھی، مگر صرف کمپنیوں کو لائسنس دینے اور ان کے سٹاک پر انحصار کرنے پر ہی اکتفا کیا جاتا رہا۔
علی خضر کے مطابق، سٹریٹجک ریزرو صرف جنگی حالات میں ہی نہیں بلکہ موجودہ عالمی حالات جیسے غیر معمولی بحرانوں میں بھی ناگزیر ہیں۔ اگر سپلائی چین متاثر ہوئی تو تیل کی عدم دستیابی دیگر تمام شعبوں کو بھی مفلوج کر سکتی ہے۔

شیئر: