Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کی امریکہ کو پیشکش: ’اگر پابندیاں ختم اور جنگ روکی جائے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے‘

دو علاقائی حکام نے پیر کے روز بتایا کہ ایران نے ایک نئی پیشکش میں کہا ہے کہ اگر امریکہ اس پر عائد ناکہ بندی ختم کرے اور جنگ کا خاتمہ کرے تو وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے۔
خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس تجویز، جسے  پاکستان کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائی گئی، کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کر دیا جائے گا۔
امکان ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس پیشکش کو قبول نہیں کریں گے۔ امریکی میڈیا کے مطابق وہ پیر کے روز اپنے اعلیٰ سکیورٹی مشیروں کے ساتھ ایران سے متعلق جنگ پر بات چیت بھی کریں گے۔
فریقین کے درمیان ایک کمزور جنگ بندی کے باوجود امریکہ اور ایران اس اہم آبی گزرگاہ کے معاملے پر آمنے سامنے ہیں، جس کے ذریعے دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس تجارت کے لیے گزرتا ہے۔
امریکی ناکہ بندی کا مقصد ایران کو تیل کی فروخت سے روکنا ہے، جس سے اس کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے اور ساتھ ہی تیل کی ذخیرہ اندوزی کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب اگر آبنائے ہرمز بند ہونے سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جس سے تیل، کھاد اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت پیر کے روز تقریباً 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے۔
ایران کی اس پیشکش میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جوہری پروگرام پر مذاکرات کو فی الحال مؤخر کیا جائے۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ اس جنگ کی ایک بڑی وجہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔
دو علاقائی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ تجویز پاکستان اور ایران کے درمیان خفیہ مذاکرات کے دوران سامنے آئی ہے۔
اسی دوران ایران کے وزیر خارجہ نے روس کا بھی دورہ کیا، جو طویل عرصے سے تہران کا اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے، تاہم ماسکو کا کردار ابھی واضح نہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران نے عمان کو بھی ایک ممکنہ نظام کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کیا جا سکے۔ عمان کی جانب سے اس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور جنگ بندی کے باوجود مکمل سیاسی حل ابھی تک حاصل نہیں ہو سکا۔

شیئر: