قطر کے دارالحکومت دوحہ کے مضافات میں ایک متروک شدہ امریکی اڈے کے چاروں طرف باڑ کے پیچھے ایک سال سے زیادہ عرصے سے پھنسے ہوئے امریکی فوج کے 1,100 سابق افغان معاونین اور ان کے اہلِ خانہ اپنی جانیں بچا کر افغانستان سے نکل تو آئے، لیکن اب وہ غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغانستان میں امریکی افواج کے لیے مترجم کے طور پر کام کرنے والے رسولی گزشتہ 19 ماہ سے قطر کے کیمپ السیلیہ میں مقیم ہیں۔
انہوں نے فون پر اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم سب شدید اضطراب میں جی رہے ہیں، ہمیں لگتا ہے کہ ہم ایک معلق کیفیت میں ہیں، صرف میں اور میرا خاندان ہی نہیں بلکہ یہاں موجود دوسرے لوگ بھی یہی محسوس کرتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں
-
مشرقی کانگو میں باغیوں نے کان سے ’سات کروڑ ڈالر کا سونا لوٹ لیا‘Node ID: 896193
یہ کیمپ قطر کے دارالحکومت کے مضافات میں صحرا کی جھاڑیوں اور ٹرک ڈپوؤں کے درمیان واقع ہے اور 2021 میں امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد سے افغان شہریوں کے لیے ایک عارضی قیام گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، جہاں سے انہیں امریکہ میں آبادکاری کی امید پر کارروائی کے مراحل سے گزارا جانا تھا۔
اس اڈے پر قیام پذیر افغان شہری افغانستان سے امریکہ سے اپنے تعلق کی وجہ سے نکالے گئے تھے، وہ اب اس خوف میں جی رہے ہیں کہ وہ اگر واپس گئے تو طالبان حکام کی جانب سے انتقامی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم، جنوری 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مہاجرین کے داخلے کو روکنے اور نومبر میں تمام افغان امیگریشن کیسز معطل کرنے کے بعد اس عمل کو بھی روک دیا گیا۔
36 برس کے رسولی نے کہا کہ ’ہمارے لیے افغانستان واپس جانا محفوظ نہیں ہے، اور ہمارے پاس کوئی واضح متبادل بھی نہیں ہے۔‘

رسولی نے بھی دیگر افغان افراد کی طرح اپنی شناخت فرضی نام سے ظاہر کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اے ایف پی سے پیغام رسانی یا فون کے ذریعے بات کی کیونکہ انہیں یہ ڈر تھا کہ اس سے افغانستان میں موجود ان کے خاندان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے یا امریکہ یا دیگر ممالک میں ان کی آبادکاری کے کیسز متاثر ہو سکتے ہیں۔
امدادی کارکنوں کا اب یہ کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ کیمپ کے 1,100 رہائشیوں کو افغانستان واپسی یا تنازع زدہ جمہوریہ کانگو میں آبادکاری کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور کیا جائے۔
افغان ایواک نامی تنظیم، جو افغان معاونین کی مدد کرتی ہے، نے تصدیق کی ہے کہ یہ تجویز ٹرمپ انتظامیہ میں زیر غور ہے، جس کے بارے میں سب سے پہلے امریکی میڈیا میں رپورٹ کیا گیا تھا۔
’جنگ بہت ہو چکی‘
امدادی گروپ کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے ایک کھلے خط میں کیمپ کے افغان رہائشیوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
خط میں کہا گیا کہ ’ہم بہت سی جنگیں دیکھ چکے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو ایک اور جنگ میں نہیں دھکیل سکتے۔ ہم افغانستان بھی واپس نہیں جا سکتے۔ طالبان ہم میں سے بہت سوں کو اس کام کی وجہ سے قتل کر دیں گے جو ہم نے امریکہ کے لیے کیا۔‘
شبنم کے والد نے مغربی افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کے ساتھ کام کیا تھا اور وہ جنوری 2025 میں کیمپ میں پہنچی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’رہائشیوں کو جمہوریہ کانگو میں آبادکاری سے متعلق کوئی سرکاری اطلاع نہیں ملی، لیکن اس خبر نے ’غیر یقینی صورتِ حال اور ذہنی دباؤ‘ پیدا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہماری سب سے بڑی فکر ہماری سلامتی ہے۔ ہم ایک ایسا بہتر اور محفوظ ملک چاہتے ہیں جہاں ہم اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔‘
شبنم اپنے تین سالہ بیٹے کے ساتھ کیمپ میں رہ رہی ہیں اور قطر پہنچنے کے بعد سے اب تک وہ کیمپ سے باہر نہیں نکل سکیں۔
38 سالہ محمود افغانستان میں امریکی اور بین الاقوامی افواج کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور ایک سال سے زیادہ عرصے سے اپنے خاندان کے ساتھ کیمپ میں مقیم ہیں، انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں، چاہے وہ آبادکاری کے بارے میں ہوں یا کیمپ بند کیے جانے کے حوالے سے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ افواہیں کہ لوگوں کو جمہوری جمہوریہ کانگو بھیجا جا رہا ہے، ذہنی دباؤ بڑھانے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔‘
امریکی محکمۂ خارجہ نے جمہوریہ کانگو کی ممکنہ منزل کے طور پر تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے، لیکن کہا ہے کہ رہائشیوں کو تیسرے ملک میں منتقل کرنا انہیں تحفظ اور نئی زندگی شروع کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
جمہوریہ کانگو کے حکام نے اس معاملے پر اے ایف پی کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔
افغانستان کی وزارت خارجہ نے امریکی منصوبوں پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک موجود افغان شہری ’اعتماد اور ذہنی سکون کے ساتھ‘ واپس آ سکتے ہیں اور ان کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں۔
’ہم بے بس ہو چکے ہیں‘
اقوامِ متحدہ نے رپورٹ کیا ہے کہ افغانستان میں 6 نومبر سے 25 جنوری کے درمیان واپس آنے والے سابق حکومتی اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کے ارکان کی 29 غیر قانونی گرفتاریاں، حراستیں اور تشدد و بدسلوکی کے 6 واقعات پیش آئے۔
مارچ اور اپریل میں ایران نے جب خلیجی ممالک پر حملوں کے دوران دوحہ کے آسمان پر میزائل داغے اور دھماکوں کی آوازیں گونجیں، تو افغان رہائشیوں میں خوف بڑھ گیا، اگرچہ یہ اڈہ اب فعال نہیں ہے۔
شبنم نے بتایا کہ کیمپ کے رہائشیوں نے آسمان پر میزائل روکنے کے مناظر دیکھے اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ایک واقعے میں ملبہ تقریباً کیمپ کے اندر گر گیا اور ہمارے ایک پڑوسی کے کمرے سے ٹکرا گیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ تنگ اور کھڑکیوں کے بغیر کنٹینروں میں رہتے ہوئے اور صرف شدید طبی ایمرجنسی میں باہر جانے کی اجازت کے باعث رہائشی ان حملوں کے دوران ’بے بسی‘ محسوس کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس نے ہمیں افغانستان کی یاد دلا دی، دھماکوں کی آوازیں، اچانک حملوں کا خوف اور غیر یقینی صورتِ حال۔‘
’ہم میں سے بہت سے لوگ جنگ سے بچنے کے لیے یہاں آئے تھے لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ اُسی خوف کا دوبارہ سامنا کر رہے ہیں۔‘
امریکی محکمۂ خارجہ نے فروری میں تصدیق کی کہ امریکہ نے کیمپ کے رہائشیوں کو افغانستان واپس جانے کے بدلے نقد رقم ادا کرنے کی پیشکش کی تھی، جس کے تحت تقریباً 150 افراد نے یہ رقم وصول کی۔
افغان ایواک اور کیمپ کے رہائشیوں کے مطابق حکام نے مرکزی درخواست گزار کو 4,500 ڈالر اور ہر زیرِ کفالت فرد کو 1,200 ڈالر واپس جانے کے لیے دیے ہیں۔
رسولی انخلا سے قبل تین سال تک اپنی جان کے خوف سے ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل ہوتے رہے، انہوں نے کہا کہ ’سلامتی کوئی ایسی چیز نہیں جو پیسے کے بدلے حاصل کی جا سکے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ مجھے اور میرے خاندان کو اگر 50,000 ڈالر بھی دیں، تو بھی میں افغانستان واپس نہیں جا سکتا کیونکہ میری جان کو خطرہ ہے۔‘












