Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وائٹ ہاؤس میں فائرنگ ایران کے خلاف جنگ سے 'نہیں روک' سکے گی: صدر ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں فائرنگ کا واقعہ ایران جنگ سے روک نہیں سکتا جبکہ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ واقعے کا ایران جنگ سے تعلق نہیں ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’ایسی چیزیں مجھے ایران جنگ کو جیتنے سے نہیں روک سکتیں، مجھے نہیں معلوم کہ اس کا اس (ایران جنگ) سے کوئی تعلق ہے یا نہیں اور جو کچھ میں جانتا ہوں اس کی بنیاد پر مجھے ایسا نہیں لگتا۔‘
تاہم اس سے قبل انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا اس کا ایران جنگ سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے یا نہیں اور اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہے۔
خیال رہے سنیچر کی رات کو وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ ہونے کے بعد تقریب کو ملتوی کر دیا گیا تھا اور صدر ٹرمپ کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا تھا سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

’ایرانی قیادت اندرونی کشمکش کا شکار ہے‘

فائرنگ کے واقعے سے قبل فلوریڈا کے لیے روانگی کے وقت صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایرانی قیادت میں ’زبردست اندرونی کشمکش اور الجھن‘ پائی جاتی ہے اور تہران نے تنازع کے حل کی تجویز کو بہتر بنایا ہے مگر وہ ’ناکافی‘ ہے۔
اس سے قبل انہوں نے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نظرثانی شدہ پیشکش امریکی توقعات کے مطابق نہیں تھی اور زور دیا کہ اسی سے ہی حکام کے اسلام کے دورے کی منسوخی کو تقویت ملی۔
اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’کوئی نہیں جانتا کہ انچارج کون ہے بشمول ان کے، اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں، تو ان کو بس کال کرنا ہو گی۔‘
اسی طرح امریکی ویب سائٹ ایکسیوس سے بات کرتے ہوئے کہ انہوں نے کہا کہ ’اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے اپنے نمائندوں کا دورہ منسوخ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا اس منسوخی کا مطلب جنگ دوبارہ شروع کرنا ہے؟ تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’نہیں، اس کا یہ مطلب نہیں ہے۔ ہم نے ابھی تک اس کے بارے میں سوچا ہی نہیں ہے۔

 

شیئر: