وائٹ ہاؤس عشائیہ: حملہ آور عدالت میں پیش، صدر کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد
وائٹ ہاؤس عشائیہ: حملہ آور عدالت میں پیش، صدر کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد
منگل 28 اپریل 2026 7:11
کول ٹامس ایلن نے فائرنگ کرتے ہوئے تقریب میں گھسنے کی کوشش کی تھی (فوٹو: سکرین شاٹ)
وائٹ ہاؤس میں عشائیے کے دوران فائرنگ کرنے والے شخص پر امریکی صدر کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے اور جرم ثابت ہونے پر اسے عمر قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 31 سالہ کول ٹامس ایلن کو جب پیر کو واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے جیل کی جانب سے جاری کی گئی نیلے رنگ کی پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی اور ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے دو روز قبل نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن کے اعزاز میں منعقدہ تقریب پر حملے کی ناکام کوشش کی۔
پراسیکیوٹر جوزلین بیلینٹائن نے کہا کہ ’اس شخص نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔‘
یہ واقعہ امریکہ میں سیاسی تشدد کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔
اس سے قبل ایک قدامت پسند سیاسی کارکن چارلی کرک کو پچھلے برس ستمبر میں ایک ریلی کے دوران قتل کر دیا گیا تھا، اس کے چند ماہ بعد منیسوٹا سے تعلق رکھنے والی ایک قانون ساز کو شوہر سمیت قتل کیا گیا۔
اسی طرح صدر ٹرمپ پر بھی 2024 کے دوران دو بار قاتلانہ حملے ہوئے جب وہ اپنی صدارتی مہم چلا رہے تھے۔
فائرنگ کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ خاتون اول سمیت ہال میں موجود تھے (فوٹو: گیٹی امیجز)
قائمقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ کول ایلن نے صدر ٹرمپ کو اس لیے نشانہ بنانے کی کوشش کیونکہ اس کے خیال میں صدر ’غدار‘ ہیں اور واقعے کی رات اس نے جو ای میل اپنے رشتہ داروں کو بھجوائی اس میں اور بھی توہین آمیز الفاظ شامل تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’مہذب معاشرتی زندگی میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس کو جمہوری اداروں میں خلل ڈالنے کے لیے نہ استعمال کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی استعمال کیا جائے گا، یقیناً اسے صدر کے خلاف استعمال کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی۔‘
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے کول ایلن کو غیرقانونی طور پر آتشیں اسلحہ رکھنے اور تشدد کے واقعے کے دوران اسے استعمال کرنے کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔
پراسیکیوٹر بیلنٹائن نے کا کہنا تھا کہ ملزم ایک 12 گیج کی پمپ ایکشن شاٹ گن اور تین چاقو لے کر واشنگٹن آیا جبکہ ایک عدالتی فائل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے پاس راک آئی لینڈ آرمری اور کیلیبر سیمی آٹومیٹک ہینڈ گن بھی موجود تھی۔
فائرنگ کے بعد حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا تھا (فوٹو: سکرین شاٹ)
رپورٹ کے مطابق جب کول ایلن پر عائد الزامات پڑھ کر سنائے گئے تو انہوں نے اس کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔
تاہم ڈیفنس وکیل تزیرا ایبے نے سماعت کے دوران کہا کہ ایلن اس سے قبل کبھی گرفتار نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی سزا ہوئی ہے۔
سماعت کے آخر میں جج میتھیو شارباؤ نے کول ایلن کو کم سے کم جمعرات تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا اور پھر اس بات جائزہ لینے کے لیے پیش کیا جائے گا کہ آیا ملزم کو ٹرائل کے دوران جیل میں رکھا جائے۔
خیال رہے کول ایلن نے سنیچر کی رات کو وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں گھس کر فائرنگ کی کوشش کی تھی جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کئی دوسرے اعلٰی حکومتی حکام اور بڑی تعداد میں صحافی موجود تھے۔