انڈونیشیا میں دو ٹرینوں کے درمیان ٹکر، کم از کم 14 ہلاک اور 84 زخمی
حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور بھی لوگ بوگیوں میں پھنسے ہوئے ہیں (فوٹو: اے پی)
انڈونیشیا میں دو ٹرینیں آپس میں ٹکرانے سے کم از کم 14 افراد ہلاک اور 84 زخمی ہو گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے اور لوگ بوگیوں کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔
ٹرینوں کے درمیان تصادم پیر اور منگل کی درمیانی رات جکارتہ شہر کے ساتھ ملحق علاقے بیکاسی ہوا۔
حکام کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھنے کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں کیونکہ اس وقت بھی تباہ حال بوگیوں کے اندر زخمی موجود ہیں۔
انڈونیشنا کی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ محمد سیفی منگل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک مشکل آپریشن ہے کیونکہ بوگیاں بری طرح مسخ ہو چکی ہیں اور دروازے نہیں کھل رہے اس لیے ان کو کاٹا جا رہا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اب بھی گاڑیوں کے اندر زندہ ہیں اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ان کو کسی نہ کسی طرح سے نکالا جائے۔
ایک عینی شاہد نے روئٹرز کو بتایا کہ امدادی کارکنوں نے گاڑیوں کو مختلف ٹکڑوں میں کاٹ دیا ہے جس کے لیے آلات کا استعمال کیا جا رہا ہے اور وہ زندہ لوگوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
حکام نے حادثے کی وجہ سے اور نوعیت کے حوالے سے بتایا ہے کہ پہلے ایک ٹرین سٹیشن کے قریب پھاٹک پر ایک ٹیکسی سے ٹکرائی جس کے بعد بے قابو ہو کر ایک اور آنے والی ٹرین سے ٹکرا گئی۔
نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی کمیٹی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ دوسری جانب جائے حادثہ پر مسافروں کے رشتہ دار بڑی تعداد میں پہنچے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ رش کی وجہ سے امدادی کاموں میں رکاوٹ پڑ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک شخص کو ایک خون آلود بیگ اٹھائے روتے ہوئے دیکھا گیا اور پوچھنے پر بتایا کہ وہ اس کے بھائی کا ہے اور حادثے کی اطلاع ملنے پر وہ وہاں پہنچا ہے مگر بھائی کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔
اسی طرح دوسرے لوگ بھی اپنے رشتہ داروں کو تلاش کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔
دنیا کے گنجان آباد ترین شہروں میں شمار ہونے والے جکارتہ میں ٹرین سروس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کچھ ٹریکس پر آمد و رفت معطل کر دی گئی ہے۔
انڈونیشیا میں ٹرین حادثات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ 2024 میں جاوا میں بھی اس سے ملتا جلتا واقعہ پیش آیا تھا جس میں چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔