سماجی کارکن پر تیزاب حملے کے الزام میں انڈونیشیا کے فوجیوں پر مقدمہ
27 سالہ اینڈری کی دائیں آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی تھی اور ان کے جسم کا 24 فیصد حصہ جھلس گیا تھا (فوٹو: اے پی)
فوجی پراسیکیوٹرز نے چار انڈونیشیائی فوجیوں پر فردِ جرم عائد کی ہے جن پر منصوبہ بندی کے تحت حملے سمیت الزامات ہیں۔ یہ مقدمہ ایک ایسے کارکن پر تیزاب پھینکنے کے واقعے سے متعلق ہے جو حکومت میں فوج کے بڑھتے ہوئے کردار پر تنقید کرتا رہا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ’کونٹراس‘ کے اینڈری یونس کو اس وقت شدید زخم آئے جب گذشتہ ماہ جکارتہ میں موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہوئے دو افراد نے ان پر تیزاب پھینکا۔ اس سے قبل انہوں نے ایک پوڈکاسٹ ریکارڈ کیا تھا جس میں انہوں نے سابق جنرل اور موجودہ صدر پرابوو سوبیانتو کے تحت حکومت پر تنقید کی تھی۔
27 سالہ اینڈری کی دائیں آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی اور ان کے جسم کا 24 فیصد حصہ جھلس گیا، جس میں چہرہ، گردن، دھڑ اور اعضا شامل ہیں۔ فوجی پراسیکیوٹر محمد اسوادی کے مطابق گرفتار چاروں ملزمان فوج کے سٹریٹجک انٹیلیجنس ایجنسی سے تعلق رکھتے تھے جس کے سربراہ نے واقعے کے بعد استعفیٰ دے دیا۔
ملزمان ایڈی سودارکو، بُدی ہاریانتو ودھی چایونو، نندالا دوی پراسیٹیا اور سمی لکا فوجی عدالت میں پیش ہوئے۔ ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ فردِ جرم پر اعتراض نہیں کریں گے تاکہ مقدمہ آگے بڑھ سکے۔
پراسیکیوٹر کے مطابق یہ حملہ کسی حکم کے تحت نہیں بلکہ اینڈری کی سرگرمیوں پر غصے کے باعث کیا گیا۔ کارکنان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمہ فوجی عدالت کے بجائے سول عدالت میں چلایا جائے تاکہ کسی ممکنہ پردہ پوشی سے بچا جا سکے۔
اسوادی نے بتایا کہ ایڈی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر حملے کی منصوبہ بندی کی۔ بُدی نے مبینہ طور پر فوجی ورکشاپ سے ’زنگ صاف کرنے والا محلول‘ حاصل کیا اور اسے بیٹری کے تیزاب کے ساتھ ملایا جسے بعد میں اینڈری پر پھینکا گیا۔
یہ جرم اگر ثابت ہو جائے تو ملزمان کو پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت شدید حملے کے الزام میں 12 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ مقدمے کی اگلی سماعت 6 مئی کو ہوگی جس میں گواہ پیش کیے جائیں گے۔
