Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فیفا کا بڑا فیصلہ: جلاوطن افغان خواتین فٹبال ٹیم کو عالمی مقابلوں میں شرکت کی اجازت

یہ ٹیم 2028 میں لاس اینجلس میں ہونے والی اولمپکس کھیلوں کے کوالیفائنگ مرحلے میں حصہ لے سکتی ہے (فوٹو: اے پی)
افغانستان کی پناہ گزینوں کی خواتین فٹبال ٹیم کو بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی اجازت دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ قومی ٹیم کی کھلاڑیوں کے افغانستان چھوڑنے کے تقریباً پانچ سال بعد ہوا ہے جب وہ طالبان کی حکمرانی سے بچنے کے لیے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئی تھیں۔
فیفا کونسل نے کینیڈا کے شہر وینکوور، برٹش کولمبیا میں منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں اپنے قواعد میں ترمیم کرنے پر اتفاق کیا تاکہ اس پناہ گزین ٹیم کو تسلیم کیا جا سکے، جو ’افغان ویمن یونائیٹڈ‘ کے نام سے کھیلتی ہے۔
اس ٹیم کو اگرچہ اب 2027 میں برازیل میں ہونے والے ویمنز ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے دیر ہو چکی ہے، تاہم یہ 2028 میں لاس اینجلس میں ہونے والی اولمپکس کھیلوں کے کوالیفائنگ مرحلے میں حصہ لے سکتی ہے۔
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم افغان ویمن یونائیٹڈ کے خوبصورت سفر پر فخر کرتے ہیں، اور اس اقدام کے ذریعے ہمارا مقصد انہیں اور ان دیگر فیفا رکن تنظیموں کو آگے بڑھنے کا موقع دینا ہے جو کسی وجہ سے فیفا مقابلوں کے لیے قومی یا نمائندہ ٹیم رجسٹر نہیں کرا سکتیں، اور یہ سب متعلقہ کنفیڈریشن کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔‘
اس ٹیم کو تسلیم کیے جانے کی پہلی پیش رفت گزشتہ برس اکتوبر میں ہوئی، جب افغان پناہ گزین کھلاڑیوں نے مراکش میں ایک ٹورنامنٹ میں شرکت کی، جس میں چاڈ، لیبیا اور تیونس کی ٹیمیں بھی شامل تھیں۔ یہ ایونٹ کئی سال کی کوششوں کے بعد ممکن ہوا، جس میں کھلاڑیوں، سابق کپتان اور کارکن خالدیہ پوپل اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا۔
خالدیہ پوپل نے ایک بیان میں کہا کہ ’پانچ سال تک ہمیں یہ بتایا جاتا رہا کہ افغانستان کی خواتین کی قومی ٹیم دوبارہ کبھی نہیں کھیل سکے گی کیونکہ جن لوگوں نے ہمارے ملک پر قبضہ کیا ہے وہ اس کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

اس وقت 80 سے زائد افغان پناہ گزین کھلاڑی آسٹریلیا، امریکہ اور یورپ میں قیام پذیر ہیں (فوٹو: روئٹرز)

’میں فیفا کے اس فیصلے پر بے حد فخر محسوس کرتی ہوں اور خوش ہوں کہ ہماری مشترکہ جدوجہد نے نہ صرف افغان خواتین کا مستقبل بدلا بلکہ یہ بھی یقینی بنایا کہ کسی اور قومی ٹیم کو وہ قربانیاں نہ دینا پڑیں جو ہماری کھلاڑیوں نے دیں۔‘
اس وقت 80 سے زائد افغان پناہ گزین کھلاڑی آسٹریلیا، امریکہ اور یورپ میں مختلف مقامات پر موجود ہیں۔ حال ہی میں ان خواتین کے لیے دو تربیتی کیمپ ایک انگلینڈ اور دوسرا آسٹریلیا میں منعقد کیا گیا۔
توقع ہے کہ یہ ٹیم جون کی بین الاقوامی ونڈو کے دوران دو نمائشی میچز کھیلے گی، اور اس کے حریفوں کا تعین ہونا ابھی باقی ہے جب کہ ٹیم کی کوچ پولین ہیمل ہیں۔
آسٹریلیا میں مقیم کھلاڑی نازیہ علی نے کہا کہ ’گزشتہ چند برسوں میں ہم نے مختلف ناموں سے کھیلا، کبھی پناہ گزین کے طور پر، کبھی افغان ویمن یونائیٹڈ کے طور پر، اور کبھی دوسرے کلبز کی مہمان کے طور پر لیکن ہمارے دلوں میں ہمیشہ ہماری قومی ٹیم رہی ہے۔ امید ہے کہ دوبارہ سرکاری طور پر اپنے پرچم کے ساتھ کھیلنا ایک ایسا احساس ہوگا جسے میں بیان نہیں کر سکتی۔‘
افغان خواتین ٹیم نے آخری بار 2018 میں کوئی باقاعدہ میچ کھیلا تھا۔ طالبان ایک سخت گیر مذہبی گروہ ہے، جنہوں نے 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کی تمام کھیلوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ کھلاڑیوں نے ممکنہ ظلم و ستم کے خوف سے افغانستان چھوڑ دیا تھا۔

افغان خواتین ٹیم نے آخری بار 2018 میں کوئی باقاعدہ میچ کھیلا تھا (فوٹو:  اے ایف پی)

ٹیم کے خاتمے سے پہلے بھی افغان فٹبال فیڈریشن خواتین پروگرام سے متعلق بدانتظامی کے الزامات کی تحقیقات کی زد میں تھی، جن میں زیادتی اور جسمانی تشدد کے الزامات شامل تھے۔ فیڈریشن کے صدر کریم الدین کریم پر فیفا نے تاحیات پابندی عائد کر دی تھی۔
فیفا کے قواعد کے تحت امتیازی سلوک کی اجازت نہیں، مگر اس کے باوجود افغان فیڈریشن کو خواتین کی ٹیم کو تسلیم نہ کرنے پر بین الاقوامی فٹبال سے معطل نہیں کیا گیا۔
ہیومن رائٹس واچ کی عالمی اقدامات کی ڈائریکٹر منکی ورڈن نے کہا ہے کہ ’فیفا نے بالآخر درست قدم اٹھایا ہے اور اس خلا کو بند کر دیا ہے جس کے ذریعے طالبان کی امتیازی پالیسیوں کو عالمی سطح پر نافذ ہونے کا موقع مل رہا تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’فیفا کا یہ اقدام دیگر بین الاقوامی کھیلوں کے اداروں کے لیے ایک مثال ہونا چاہیے کہ وہ اُس وقت کیسا ردِعمل ظاہر کریں جب کھلاڑیوں کو ان کی جنس، نسل یا عقائد کی بنیاد پر منظم طور پر کھیل سے باہر رکھا جائے۔‘

شیئر: