Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

افغانستان سے نکلنے اور برطانیہ پہنچنے کے لیے افغان باشندوں کو مدد فراہم نہیں کی جائے گی: وزیرِ دفاع

برطانوی وزارتِ دفاع اعلان کیا ہے کہ ’ایسے افغان شہری جنہیں برطانیہ میں آباد ہونے کی اجازت دی گئی ہے، وہ افغانستان سے نکلنے کے لیے اپنا انتظام خود کریں۔‘
عرب نیوز کے مطابق برطانیہ کے وزیر دفاع لُوک پولارڈ نے منگل کے روز دارالعوام کو تحریری بیان میں بتایا کہ ’قریباً 9 ہزار افغان باشندے برطانیہ جانے کے اہل ہیں، اِن میں سے زیادہ تر ایسے افراد ہیں جنہوں نے برطانوی فوج کے ساتھ کام کیا تھا۔‘
برطانوی وزیرِ دفاع کے مطابق ’اِن افغانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ خود کسی تیسرے ملک پہنچنے کا انتظام کریں اور اس کے بعد برطانیہ اُن کی رہائش اور سفر کے سلسلے میں 2028 تک مدد فراہم کرے گا۔‘
لُوک پولارڈ کا کہنا تھا کہ ’متعدد افراد نے کامیابی کے ساتھ افغانستان سے نکلنے کا عمل مکمل کر لیا ہے، اس لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب افغانستان کے اندر ایسے افغان باشندوں کو مدد فراہم نہیں کی جائے گی تاکہ ٹیکس دہندگان کی رقم کم سے کم استعمال ہو۔‘
برطانوی حکومت نے برطانیہ میں آباد ہونے کے لیے درخواست دینے والے افغان باشندوں کا ڈیٹا لیک ہونے کے بعد گذشتہ برس افغان ری سیٹلمنٹ پروگرام کے لیے نئی درخواستیں بھی بند کر دیں۔
سابق برطانوی حکومت کا کہنا تھا کہ ’2022 میں ان افراد کا ڈیٹا غلطی سے جاری ہو گیا تھا اور بعدازاں یہ معلومات آن لائن شائع بھی ہو گئیں۔’

شیئر: