Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آبنائے ہرمز کا بحران عالمی سطح پر چینی کی سپلائی کو کیسے متاثر کر رہا ہے؟

برازیل دنیا کی تقریباً 45 فیصد برآمدی چینی فراہم کرتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
اپریل کے آغاز میں جب برازیل کے مل آپریٹرز نے نئی فصل کاٹنا شروع کی تو ان کی تجارتی سکرینوں پر اصل توجہ چینی پر نہیں بلکہ تیل اور ایتھنول پر تھی۔ خام تیل کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا رہی تھی، ایتھنول کا منافع بڑھ رہا تھا اور آبنائے ہرمز تجارتی جہاز رانی کے لیے بند ہو چکی تھی۔
حساب سادہ تھا۔ جتنا تیل مہنگا ہوگا، اتنا ہی ایتھنول قیمتی ہوگا اور اتنی ہی کم چینی بنے گی۔
عرب نیوز کے مطابق برازیل دنیا کی تقریباً 45 فیصد برآمدی چینی فراہم کرتا ہے۔ ہر فصل میں یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کتنا گنا چینی کے لیے اور کتنا ایتھنول کے لیے استعمال ہوگا۔ یہی لچک برازیل کو نہ صرف چینی بلکہ بایو فیول کا بھی ’سوئنگ پروڈیوسر‘ بناتی ہے۔
تیل کی قیمت بڑھتے ہی یہ توازن فوراً بدل جاتا ہے۔ ڈیٹاگرو نامی ادارے نے پہلے ہی اندازہ لگایا تھا کہ ملز اس سال چینی کے لیے گنے کا حصہ 50.7 فیصد سے کم کر کے 48.5 فیصد کر دیں گی۔ جنگ کے آغاز نے اس فیصلے کو مزید تیز کر دیا۔ برازیلی حکومت نے پیٹرول میں ایتھنول کی آمیزش 30 فیصد سے بڑھا کر 32 فیصد کر دی ہے اور سال کے آخر تک 35 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا ہے۔ اس سے اندازہ ہے کہ اس سال گنے کا 54 فیصد حصہ ایتھنول میں جائے گا۔
آرچر کنسلٹنگ کے سی ای او آرنالڈو لوئز کوریا کے مطابق ’ملز پہلے ہی ایتھنول کی طرف زیادہ گنا بھیجنے کا سوچ رہی تھیں کیونکہ چینی کی قیمتیں بہت کمزور تھیں۔ فنڈز نے جب اپنی شارٹ پوزیشنز کور کرنا شروع کیں تو قیمتیں بڑھ سکتی تھیں، مگر ملز کی جانب سے ایک ساتھ بڑی مقدار میں فروخت نے اس رجحان کو روک دیا۔‘
آبنائے ہرمز کی بندش نے اس حساب کتاب میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تیل مسلسل 100 ڈالر فی بیرل کے قریب رہنے سے برازیلی ملز کو ایتھنول کی طرف جانے کی مزید ترغیب ملی، جس کا مطلب ہے کہ عالمی منڈی میں چینی کم پہنچے گی۔
اسی دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔ ایران نے تجارتی جہاز رانی کھولنے کے بدلے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز دی، مگر سفارتی ماحول سخت رہا۔ اس پس منظر میں چینی کے نرخوں میں معمولی بہتری آئی، لیکن وہ اب بھی پچھلے سال کے مقابلے میں 22 فیصد کم ہیں۔

خلیج مجموعی طور پر دنیا کی 10 فیصد خام چینی درآمد کرتی ہے (فوٹو: روئٹرز)

جنگ سے پہلے عالمی پیداوار 189-190 ملین ٹن اور کھپت 177-178 ملین ٹن تھی، یعنی 11-12 ملین ٹن کا فاضل ذخیرہ۔ یہی اضافی مقدار قیمتوں کو اوپر جانے سے روک رہی ہے۔
عرب خطہ اس بحران میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ 2024 میں چھ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک دنیا کے بڑے درآمد کنندگان میں شامل تھے۔ متحدہ عرب امارات نے 1.28 ارب ڈالر، سعودی عرب نے 1.25 ارب ڈالر، الجزائر نے 1.1 ارب ڈالر اور مصر نے 975 ملین ڈالر کی چینی درآمد کی۔ دبئی کا جبیل علی پورٹ دنیا کی سب سے بڑی چینی ریفائنری ’الخلیج شوگر‘ کا مرکز ہے، جو سالانہ 1.8 ملین ٹن خام گنا پروسیس کرتی ہے۔
خلیج مجموعی طور پر دنیا کی 10 فیصد خام چینی درآمد کرتی ہے اور 5 فیصد ریفائنڈ چینی دوبارہ برآمد کرتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اس پورے سلسلے کو متاثر کر رہی ہے۔ بڑے شپنگ ادارے جیسے مرسک اور ایم سی ایس نے آبنائے ہرمز سے گزرنا بند کر دیا ہے اور کارگو کو فجیرہ، خورفکان اور صُحار کی طرف موڑ دیا ہے۔ مگر یہ بندرگاہیں جبیل علی جیسی صلاحیت نہیں رکھتیں جس سے تاخیر اور اخراجات بڑھ رہے ہیں۔
برازیل کے لیے یہ مسئلہ براہِ راست نہیں کیونکہ زیادہ تر چینی ایف او بی بنیاد پر فروخت ہوتی ہے، یعنی برازیل سے آگے کی لاجسٹکس درآمد کنندگان کی ذمہ داری ہے۔ تاہم دبئی کی ریفائنری نے کہا ہے کہ اس کے پاس دو سال تک کے ذخائر موجود ہیں۔ سعودی عرب نے بھی متبادل راستے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں مگر خطرات باقی ہیں۔

فی الحال منڈی ’خلل‘ کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے، مگر ’کمی‘ کو نہیں (فوٹو: روئٹرز)

ایک اور پہلو برازیل کے ٹرک ڈرائیورز ہیں جن کے ڈیزل اخراجات بڑھنے سے ہڑتال کا امکان ہے۔ 2018 میں نو دن کی ہڑتال نے پورے ملک کا نظام مفلوج کر دیا تھا۔ اگر ایسا دوبارہ ہوا تو گنے کو ملز تک پہنچانا مشکل ہو جائے گا۔
سب سے کم نظر آنے والا دباؤ کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ عالمی یوریا کا تقریباً نصف حصہ خلیج سے آتا ہے اور قیمتیں پہلے ہی 40 سے 60 فیصد بڑھ چکی ہیں۔ اس کا اثر اگلی فصلوں پر پڑے گا، خاص طور پر برازیل، انڈیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں۔ مزید یہ کہ ممکنہ ’ایل نینو‘ موسم جنوب مشرقی ایشیا میں خشک سالی لا سکتا ہے، جس سے تھائی لینڈ اور انڈیا کی پیداوار متاثر ہوگی۔
فی الحال منڈی ’خلل‘ کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے، مگر ’کمی‘ کو نہیں۔ اصل فرق اس بات پر ہوگا کہ آبنائے ہرمز کتنے عرصے تک بند رہتی ہے اور یہ خطہ، جو عالمی چینی تجارت کے لیے ناگزیر ہے، کب تک متاثر رہتا ہے۔

 

شیئر: