Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے افزودہ یورینیم کا اب بھی اصفہان میں موجود ہونے کا امکان ہے، آئی اے ای اے

آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران کے دیگر مراکز، جیسے نطنز اور فردو، کا بھی معائنہ ضروری ہے (فوٹو: روئٹرز)
اقوامِ متحدہ کی ایٹمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافائل گروسی نے کہا ہے کہ ایران کا زیادہ تر انتہائی افزودہ یورینیم اب بھی اصفہان کے جوہری کمپلیکس میں موجود ہے۔ یہ وہی مقام ہے جس پر گذشتہ سال فضائی حملے ہوئے تھے اور اس سال بھی امریکی-اسرائیلی جنگ کے دوران کم شدت کے حملے کیے گئے۔
گروسی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایجنسی کے پاس سیٹلائٹ تصاویر موجود ہیں جن میں امریکی، اسرائیلی حملوں کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جون 2025 میں جب 12 روزہ جنگ شروع ہوئی، ایران کا بڑا حصہ افزودہ یورینیم اصفہان میں ذخیرہ تھا اور غالب امکان ہے کہ اب بھی وہیں موجود ہے۔
ایئربس کے سیٹلائٹ سے حاصل تصاویر میں ایک ٹرک دکھائی دیتا ہے جو 18 نیلے کنٹینرز لے کر اصفہان کے نیوکلئیر ٹیکنالوجی سینٹر کی ایک سرنگ میں داخل ہو رہا ہے۔ یہ کنٹینرز غالباً افزودہ یورینیم پر مشتمل ہیں۔
آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران کے دیگر مراکز، جیسے نطنز اور فردو، کا بھی معائنہ ضروری ہے۔ ایران چونکہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی)  کا رکن ہے، اس لیے اسے اپنی تنصیبات آئی اے ای اے کے معائنے کے لیے کھولنی چاہئییں۔
ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440.9  کلوگرام یورینیم ہے جو 60 فیصد تک افزودہ ہے۔ یہ سطح ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد کے قریب ہے۔ اندازہ ہے کہ اس میں سے تقریباً 200 کلوگرام اصفہان کی سرنگوں میں رکھا گیا ہے۔ اس مقدار سے ایران اگر چاہے تو تقریباً 10ایٹمی بم بنا سکتا ہے۔
ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے، تاہم امریکہ اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا ضروری ہے۔
گروسی نے مزید بتایا کہ آئی اے ای اے نے روس اور دیگر ممالک سے بات کی ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کیا جائے، لیکن یہ ایک پیچیدہ عمل ہے جس کے لیے سیاسی معاہدہ یا بڑی فوجی کارروائی درکار ہوگی۔

گروسی کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام 2015 کے مقابلے میں کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہو چکا ہے (فوٹو: اے پی)

بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک بار پھر پیشکش کی ہے کہ وہ امریکہ کو ایران کے افزودہ یورینیم کے معاملے میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے پیوٹن کو بتایا کہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ روسی صدر یوکرین کی جنگ ختم کرنے میں کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ صرف اس وقت ممکن ہے جب دونوں جانب سیاسی عزم ہو۔ دونوں فریقین مذاکرات پر آمادہ ہیں، لیکن اختلاف اس بات پر ہے کہ پہلے کون سا قدم اٹھایا جائے۔
گروسی کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام 2015 کے مقابلے میں کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہو چکا ہے۔ جدید سینٹری فیوجز اور نئی تنصیبات نے اسے مزید طاقتور بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں فریقین میں دلچسپی موجود ہے، لیکن اعتماد اور عملی اقدامات کی کمی معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
یہ صورتحال عالمی امن کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم مستقبل میں خطے اور دنیا کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

 

شیئر: