Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آن لائن شاپنگ میں ’کارٹ‘ ادھورا چھوڑنے سے پاکستان کو سالانہ اربوں کا نقصان

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی صارفین میں آن لائن خریداری کا رجحان بڑھ رہا ہے (فائل فوٹو: پکسابے)
کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ نے گھنٹوں آن لائن سرفنگ کر کے اپنی پسند کا لباس یا جوتا تلاش کیا ہو، اسے ’کارٹ‘ میں بھی ڈالا لیکن جب پیسے ادا کرنے کی باری آئی تو یا تو کارڈ نے کام کرنے سے انکار کر دیا یا ویب سائٹ پر ادائیگی کا طریقہ اس قدر مشکل لگا کہ آپ نے اُکتا کر خریداری کا ارادہ ہی ترک کر دیا؟
اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایسا صرف آپ کے ساتھ ہی ہوا ہے تو شاید آپ غلط ہیں۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق آپ جیسے لاکھوں پاکستانی صارفین ’چیک آؤٹ‘ کے مرحلے پر پہنچ کر خریداری ادھوری چھوڑ دیتے ہیں، جس کے باعث اس شعبے کو سالانہ ایک ارب 61 کروڑ ڈالر کا مالی نقصان بھی ہو رہا ہے۔
پایونیئر کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ’ایشیا بھر کے تاجروں کو چیک آؤٹ کے عمل میں موجود خامیوں کی وجہ سے سالانہ 72 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جس میں پاکستان کا حصہ ایک ارب 61 کروڑ ڈالر کے برابر ہے۔‘
گاہک پیچھے کیوں ہٹ جاتا ہے؟
ڈیجیٹل مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی صارفین میں آن لائن خریداری کا رجحان تو بڑھ رہا ہے، لیکن ’پیمنٹ گیٹ ویز‘ یعنی پیسے کی منتقلی کا نظام اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اسلام آباد کے ایک رہائشی اسلم احمد (فرضی نام) اکثر آن لائن شاپنگ کرتے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ ’کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ویب سائٹ پر قیمت کچھ اور ہوتی ہے اور جب چیک آؤٹ پر جاؤ تو پوشیدہ ٹیکسز اور ڈلیوری چارجز سامنے آ جاتے ہیں۔ ایسے میں بندہ سوچتا ہے کہ اس سے بہتر تھا کہ بازار جا کر ہی خریداری کر لیتا۔‘
ڈیجیٹل ادائیگیوں کی عالمی کمپنی پیونیئر نے اپنی رپورٹ میں ان بنیادی رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے جو ایک عام پاکستانی صارف کو خریداری مکمل کرنے سے روکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صارفین کی یہ پریشانی اور ’کارٹ‘ آرڈر ادھورا چھوڑنے کی چند بنیادی وجوہات ہیں۔
پوشیدہ یا غیر متوقع چارجز
اکثر دیکھا گیا ہے کہ خریداری کے بالکل آخری منٹ پر جب گاہک پیمنٹ کرنے لگتا ہے، تو اسے ایسی اضافی فیس یا ٹیکسز کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے وہ بدظن ہو کر ویب سائٹ بند کر دیتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی سست روی
ادائیگی کے حساس مرحلے پر ویب سائٹ کا سست ہونا یا ’ہینگ‘ ہو جانا صارفین کے لیے شدید بیزاری کا باعث بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بینک کی جانب سے ’ون ٹائم پاس ورڈ‘ موصول ہونے میں تاخیر بھی ٹرانزیکشن فیل ہونے کی بڑی وجہ ہے۔
اعتبار اور سکیورٹی کا فقدان 
پاکستان میں اب بھی صارفین کی ایک بڑی تعداد اپنا کارڈ نمبر یا بینکنگ تفصیلات آن لائن فراہم کرنے سے گھبراتی ہے۔

صارفین کی ایک بڑی تعداد اب بھی اپنا کارڈ نمبر یا بینکنگ تفصیلات آن لائن فراہم کرنے سے گھبراتی ہے (فائل فوٹو: پکسابے)

ماہرین کے مطابق اگر کسی ویب سائٹ پر ’کیش آن ڈیلیوری‘ کی سہولت موجود نہ ہو، تو اکثر پاکستانی خریدار بھروسہ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں سے خریداری نہیں کرتے۔
’60 فیصد سے زیادہ نقصان صرف ’کارٹ‘ چھوڑنے سے‘
پیونیئر کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان میں ہونے والے کل مالی نقصان کا 60 فیصد سے زائد حصہ ان ٹرانزیکشنز کا ہے جو صارفین نے شروع تو کیں مگر مکمل نہیں کر پائے، جسے تکنیکی زبان میں ’کارٹ ابینڈنمنٹ‘ کہا جاتا ہے۔
پاکستان کے معروف آئی ٹی اور ای کامرس ماہر ولید ریاض کے مطابق پاکستان کو صرف آن لائن خریداروں میں اضافہ نہیں بلکہ ادائیگیوں کے مضبوط نظام اور خریداری کے عمل میں بہتری کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 کی تیسری سہ ماہی میں 21 کروڑ 30 لاکھ سے زائد ای کامرس ٹرانزیکشنز ہوئیں جن کی مالیت 258 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
ولید ریاض کا کہنا ہے کہ ’اصل مسئلہ یہ ہے کہ تاجر آخری مرحلے پر صارفین کو کھو دیتے ہیں، جس کی وجوہات میں ادائیگیوں کا فیل ہونا، غیر واضح چارجز، قابلِ اعتماد پیمنٹ آپشنز کی کمی، کیش آن ڈیلیوری پر انحصار اور رقم کی منتقلی میں تاخیر شامل ہیں۔‘

سٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2025 کی تیسری سہ ماہی میں 21 کروڑ 30 لاکھ سے زائد کی ای کامرس ٹرانزیکشنز ہوئیں (فوٹو: پرو پاکستانی)

ان کے مطابق حل یہ ہے کہ چیک آؤٹ کو صرف مرحلہ نہیں بلکہ آمدنی بڑھانے کا ذریعہ سمجھا جائے، شفاف قیمتیں رکھی جائیں اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کو آسان بنایا جائے۔
دوسری جانب پاکستان ای کامرس ایسوسی ایشن کے بانی رکن ارزش اعجاز کا کہنا ہے کہ ’انہیں پائونیئر کے 1.61 ارب ڈالر کے اعداد و شمار پر شکوک و شبہات ہیں اور وہ اس حوالے سے واضح نہیں ہیں کہ یہ نمبرز کہاں سے لیے گئے ہیں؟‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ای کامرس ویب سائٹس پر ’کارٹ‘ میں اشیاء شامل کرنا اور پھر انہیں نکال دینا ایک عام فیچر ہے اور یہ صارفین کا معمول کا رویہ ہے۔‘
ان کے مطابق، وہ اس منطق کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ صارفین کو اس عمل سے مالی نقصان کیسے پہنچتا ہے، اور ان کے اس حوالے سے تحفظات برقرار ہیں۔

شیئر: