حافظ آباد میں ڈی پی او کے ’واش روم کا استعمال‘، علاقائی سیاست میں ہلچل
حافظ آباد میں ڈی پی او کے ’واش روم کا استعمال‘، علاقائی سیاست میں ہلچل
پیر 15 جون 2026 15:24
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
جلالپور بھٹیاں میں اس وقت لیگی گروپ نے ایک کیمپ لگا رکھا ہے جس میں بڑی تعداد میں کارکن موجود ہیں (فوٹو: ایکس اکائونٹ)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں مبینہ طور پر ’واش روم‘ استعمال کرنے کے معاملے پر ڈی پی او کی تبدیلی کا معاملہ سوشل میڈیا سے ہوتا ہوا مقامی طور پر سیاسی ہلچل میں تبدیل ہو گیا ہے۔
پیر کی شام کو حافظ آباد کے نواحی قصبے جلال پور بھٹیاں میں دو سیاسی مخالفین نے ایک دوسرے کو چیلنج کیا ہے جبکہ مقامی افراد کے مطابق اس معاملے میں لا اینڈ آرڈر کی صورتِ حال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
واش روم کے استعمال کا تنازع ہے کیا؟
یہ معاملہ تقریباً ایک ماہ پرانا ہے۔ جلال پور بھٹیاں کے مقامی صحافی شاذب علی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’عید سے کچھ روز قبل مسلم لیگ ن کے ایم پی اے میاں شاہد حسین اپنے بیٹے اور ایک اور سیاسی ورکر کے ساتھ ڈی پی او حافظ آباد کے دفتر گئے۔‘
’ڈی پی او کامران حمید اپنے دفتر میں موجود نہیں تھے۔ جب وہ فیلڈ سے دفتر واپس آئے تو براہِ راست اپنے کمرے میں جانے کی بجائے دربار ہال میں چلے گئے جہاں سائلین ان کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے اس کے بعد اپنے سرکاری دفتر کا رُخ کیا تو ایم پی اے کے صاحب زادے حیدر بھٹی اس وقت ڈی پی او کا واش روم استعمال کر رہے تھے جس کے باعث ڈی پی او کو پندرہ منٹ تک انتظار کرنا پڑا۔‘
انہوں نے اُردو نیوز سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’حیدر بھٹی واش روم سے باہر آئے تو ڈی پی او نے ناراضی کا اظہار کیا کہ ان کا واش روم بغیر اجازت کیوں استعمال کیا گیا، جس کے بعد یہ معاملہ سنجیدہ رُخ اختیار کر گیا اور رُکن صوبائی اسمبلی کے صاحب زادے دفتر سے روانہ ہو گئے۔‘
ڈی پی او کے کمرے میں پیش آنے والا یہ واقعہ اُس وقت تک خبروں میں نہیں آیا جب تک شاہد حسین بھٹی کے مخالف امیدوار مامون جعفر تارڑ نے اپنی ایک فیس بک پوسٹ پر یہ نہیں لکھا ’گیٹ لاسٹ‘ (دفع ہو جاو) اور اس کے ساتھ لافٹر ایموجی بھی لگائی۔
اُن کی یہ پوسٹ شیئر کرنے کی دیر تھی کہ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا لیکن جلد ہی یہ معاملہ ایک بار پھر دَب گیا۔ کچھ روز بعد 12 جون کی شام جب آئی جی آفس سے ڈی پی او حافظ آباد کامران حمید کے ’اچانک‘ تبادلے کے احکامات جاری ہوئے تو حیدر بھٹی نے اپنی فیس بک وال پر لکھا، ’نائو یو گیٹ لاسٹ‘ (اب تم دفع ہو جائو)۔
دیکھتے ہی دیکھتے یہ معاملہ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ تاہم ایک روز بعد حیدر بھٹی نے اپنی سیاسی تقریر میں کہا کہ ’انہوں نے یہ الفاظ ڈی پی او کے لیے نہیں بلکہ اپنے مخالف مامون جعفر کے لیے استعمال کیے تھے۔‘ اس سیاسی جلسے میں لیگی ایم پی اے شاہد بھٹی نے یہ شکوہ بھی کیا کہ ’ڈی پی او آفس میں پیش آنے والے واقعہ کو سوشل میڈیا پر نہیں اُچھالا جانا چاہیے تھا۔‘
سیاسی بیان بازی
حیدر بھٹی کے بیان کے بعد مامون جعفر نے بھی ویڈیو بیان جاری کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ’دفع ہو جائو‘ کا جملہ ڈی پی او کے لیے ہی تھا۔
حیدر بھٹی کے بیان کے بعد مامون جعفر نے ایک ویڈیو بیان میں یہ دعویٰ کیا کہ ’گیٹ لاسٹ ‘ کا استعمال ڈی پی او کے لیے ہی تھا (فوٹو: سوشل میڈیا)
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’مجھے اگر ایسا کچھ کہنا ہے تو میں پیر کی شام پانچ بجے جلال پور بھٹیاں آئوں گا تو میرے منہ پر کہہ دینا۔‘
اس ویڈیو بیان کے بعد ایک دوسرے کو چیلنج کرنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ شاذب علی بتاتے ہیں کہ اس وقت جلالپور بھٹیاں میں لیگی گروپ نے ایک کیمپ لگا رکھا ہے جس میں بڑی تعداد میں کارکن موجود ہیں۔
انہوں کہا کہ ’سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی بات اب تصادم کی جانب بڑھ رہی ہے۔ دونوں گروپوں نے اپنے اپنے بندے اکھٹے کرنا شروع کر دیے ہیں اور اس وقت جلالپور بھٹیاں میں مامون جعفر کے لیے استقبالیہ کیمپ لگ چکے ہیں۔ وہ اگر یہاں آتے ہیں تو یقیناً لا اینڈ آرڈر کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ معاملہ چوں کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے تو اس لیے کوئی فریق بھی پسپائی اختیار کرنے پر تیار نہیں۔‘
خیال رہے کہ مامون جعفر تارڑ بھی سابقہ ایم پی اے ہیں اور انہوں نے تحریک اںصاف کے ٹکٹ پر 2018 میں اسی حلقے سے الیکشن لڑا تھا اور جیت گئے تھے۔ تاہم 2024 کے الیکشن میں انہوں نے استحکامِ پاکستان پارٹی کو جوائن کر لیا تھا اور مسلم لیگ ن کے امیدوار شاہد بھٹی سے تقریباً 10 ہزار ووٹوں سے ہار گئے تھے۔