ایوارڈ یافتہ امریکی فری لانس صحافی شیلی کٹلسن اُن خوش نصیب افراد میں سے ایک ہیں جنہیں مارچ کے آخر میں عراق میں اغوا کیا گیا اور کچھ ہی دنوں بعد 7 اپریل کو رہا کر دیا گیا۔
شیلی کٹلسن نے اپنے ذاتی تجربے پر مبنی ایک تحریر میں اُس ایک ہفتے پر محیط اذیت ناک تجربات کی تفصیلات بیان کیں جو اُنہوں نے ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا گروہ کتائب حزب اللہ کے ارکان کے ہاتھوں جھیلا، اُن کی یہ تحریر 23 اپریل کو ’دی اٹلانٹک‘ میں شائع ہوئی۔
مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کی تجربہ کار رپورٹر، جنہیں عراق میں ایک دہائی سے زائد کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے، ملک میں اپنی اسائنمنٹ کے لیے صرف ایک ہفتہ گزار پائی تھیں کہ 31 مارچ کو بغداد میں اپنے ہوٹل کے باہر سڑک سے انہیں اغوا کر لیا گیا۔
مزید پڑھیں
-
یوکرین جنگ: کیئف میں ایک اور امریکی صحافی ہلاکNode ID: 652991
سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہ لمحہ محفوظ ہے جب دو افراد نے انہیں زبردستی ایک گاڑی میں ڈالا۔ اُن کے ہاتھ پلاسٹک کی رسیوں سے باندھ دیے گئے، آنکھوں پر پٹی باندھی گئی، سر پر تھیلا چڑھا دیا گیا اور انہیں اس قدر بے دردی سے مارا گیا کہ وہ گاڑی کے فرش پر بے ہوش ہو گئیں۔
بعد ازاں اُنہیں پہلے سے تیار کردہ ایک بیان ریکارڈ کرنے پر مجبور کیا گیا جس میں انہوں نے خود کو ایک امریکی ایجنٹ ’تسلیم‘ کیا۔
لیکن گزشتہ برسوں میں اغوا کیے جانے والے بہت سے افراد کے برعکس، انہیں زندہ اور نسبتاً جلد رہا کر دیا گیا، جس کے بعد دو سوال پیدا ہوئے کہ انہیں اغوا ہی کیوں کیا گیا؟ اور پھر اس قدر جلد چھوڑ کیوں دیا گیا؟
شیلی کٹلسن کا معاملہ فوراً ہی امریکی حکومت کے اعلیٰ ترین حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے خود گزشتہ ہفتے اُن کی رہائی کا اعلان کیا۔
مارکو روبیو نے عراقی حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’صحافی کی رہائی (ڈونلڈ) ٹرمپ انتظامیہ کے اس غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ دنیا میں کہیں بھی موجود امریکی شہریوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔‘
تاہم تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ایران کی جانب سے اکثر و بیشتر جاسوسی کے الزامات کے تحت غیرملکی شہریوں کو یرغمال بنایا جاتا رہا ہے خواہ وہ کتائب حزب اللہ جیسے گروہوں کے ذریعے ہو یا خود ایران یہ کرے، اور اس کے پس پردہ عموماً کوئی نہ کوئی معاشی یا سفارتی مقصد ضرور کارفرما ہوتا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں شیلی کٹلسن کا معاملہ اس خدشے کو جنم دیتا ہے کہ مزید مغربی باشندے بھی ایسے انسانی دبائو کے ہتھیار کے طور پر اغوا ہو سکتے ہیں اور ایک غیر متوازن جنگ لڑنے والی ایرانی حکومت ایسا کر سکتی ہے تاکہ اغوا کے ان معاملات کو مذاکرات کی میز پر رعایتیں حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
شیلی کٹلسن کا اغوا اور پھر فوری رہائی شاید ایک طرح کا پیغام بھی ہو سکتی ہے، جس کے ذریعے یہ اشارہ دیا گیا ہو کہ ایران امریکہ کے ساتھ اپنے تنازع میں ایک نیا محاذ کھولنے کی تیاری کر رہا ہے۔
شیلی کٹلسن کی رہائی کے بعد کتائب حزب اللہ کے ایک سکیورٹی عہدیدار اَبو مجاہد الاساف نے ایک بیان جاری کیا جو دراصل ایک تنبیہ کے مترادف تھا۔
انہوں نے کہا کہ گروہ کی جانب سے دکھائی گئی یہ ’نرمی‘ آئندہ دنوں میں نہیں دہرائی جائے گی، کیونکہ ’ہم ایک ایسی حالتِ جنگ میں ہیں جو صہیونی امریکی دشمن نے اسلام کے خلاف شروع کی ہے، اور ایسے حالات میں بہت کچھ پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔‘
شیلی کٹلسن کی آزمائش اگرچہ خوشگوار انجام کو پہنچی، لیکن اُن سے پہلے اغوا کیے جانے والے اُن افراد کی فہرست طویل ہے جو اس قدر خوش نصیب ثابت نہیں ہوئے۔
اس فہرست میں مارگریٹ حسن بھی شامل ہیں، جو 59 سالہ آئرش نژاد انسانی کارکن اور غیرسرکاری تنظیم کیئر انٹرنیشنل عراق کی ڈائریکٹر تھیں۔ انہیں 8 نومبر 2004 کو عراق میں امریکی حملے کے بعد جاری شورش کے دوران اغوا کیا گیا، اور ان کی لاش آج تک نہیں مل سکی۔
انہوں نے 1972 میں تحسین علی حسن سے شادی کی، جو اس وقت برطانیہ میں زیرِ تعلیم ایک عراقی شہری تھے۔ مارگریٹ حسن نے بعد ازاں عراقی شہریت حاصل کر لی اور اپنے اغوا (اکتوبر 2004) اور بعد ازاں قتل تک وہ 32 برس عراق میں مقیم رہیں۔
ایک یرغمالی ویڈیو میں مارگریٹ حسن نے برطانوی عوام سے اپیل کی کہ وہ اُس وقت کے وزیرِاعظم ٹونی بلیئر کو کہیں کہ ’عراق سے فوج واپس بلا لی جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ کینتھ بگلے جیسا انجام نہیں چاہتیں، جو ایک برطانوی سول انجینئر تھے اور جن کا ان کے دو امریکی ساتھیوں کے ساتھ سر قلم کر دیا گیا تھا اور اس کی ویڈیو بھی بنائی گئی تھی۔

یہ صرف چند مثالیں ہیں، مختلف وجوہات کی بنا پر متعدد گروہوں نے لوگوں کو اغوا کیا۔ 2006 تک، 200 سے زائد غیر ملکیوں اور ہزاروں عراقیوں کو شدت پسندوں، قوم پرستوں یا جرائم پیشہ گروہوں نے اغوا کیا تھا۔
لبنان سمیت دیگر ممالک میں بھی ایرانی مفادات کے تحت ہونے والے ہائی پروفائل اغوا دیکھنے میں آئے۔ اپریل 1987 میں برطانوی صحافی جان میکارتھی کو بیروت میں اسلامک جہاد آرگنائزیشن نے اغوا کیا، جو ایک شیعہ ملیشیا تھی اور بعد میں حزب اللہ کی پیش رو سمجھی جاتی رہی ہے، جسے ایران کی مالی و عسکری مدد حاصل تھی۔
میکارتھی اُن 100 سے زائد غیر ملکی یرغمالیوں میں سے ایک تھے جنہیں 1982 سے 1987 کے دوران اغوا کیا گیا جب لبنانی خانہ جنگی عروج پر تھی۔ اس دوران ایران اور اس کے اتحادی مغربی طاقتوں سے رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اگلے چند برسوں میں ہونے والے واقعات نے تہران اور اس کے اتحادیوں کو یہ باور کرا دیا کہ اغوا محض انتقام کا ہتھیار نہیں بلکہ دبائو ڈالنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔
میکارتھی کو پانچ برس سے زائد عرصہ قید میں رکھنے کے بعد اگست 1991 میں رہا کیا گیا۔ اس دوران وہ ایک آئرش قیدی برائن کینن کے ساتھ ایک ہی کوٹھڑی میں رہے، جنہیں ایک سال قبل اسی گروہ نے اغوا کیا تھا۔
بعد میں ان کے ساتھ ٹیری ویٹ بھی شامل ہو گئے، جو کینٹربری کے آرچ بشپ کے معاون تھے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کرتے رہے تھے۔
1980 میں ٹیری ویٹ نے ایران میں کئی اینگلیکن یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائی، جبکہ 1986 میں انہوں نے بیروت میں 564 دن سے قید ایک امریکی پادری کی رہائی میں بھی کردار ادا کیا۔
لیکن بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ لبنان میں قید سات امریکی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ویٹ کی کوششوں کے پسِ پردہ امریکی حکومت خفیہ طور پر ایران کو اسلحہ فراہم کر رہی تھی، جو دراصل تاوان کی ایک شکل تھی۔
اس وقت کے امریکی صدر رونالڈ ریگن نے بعد میں اعتراف کیا کہ ’ایران کے ساتھ جو چیز ایک سٹریٹجک رابطے کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ عملی طور پر اسلحے کے بدلے یرغمالیوں کے تبادلے میں بدل گئی۔‘
جنوری 1987 میں ٹیری ویٹ اُس وقت خود بھی اغوا ہو گئے جب وہ دیگر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بیروت گئے۔ انہیں 1,763 دن قید رکھنے کے بعد نومبر 1991 میں رہا کیا گیا۔

اسی وقت تھامس سدرلینڈ کو بھی رہا کیا گیا، جو 2,353 دن قید رہے۔ ان کی قید کی مدت صرف ٹیری اینڈرسن سے کم تھی، جو ایک امریکی صحافی اور سابق میرین تھے۔
ٹیری اینڈرسن کو مارچ 1985 میں اغوا کیا گیا اور ساڑھے چھ برس قید رکھنے کے بعد دسمبر 1991 میں رہا کیا گیا۔
اگرچہ یہ تمام اغوا اکثر ایرانی اتحادیوں کے ذریعے کیے جاتے رہے ہیں، لیکن ایران خود بھی ریاستی سطح پر اغوا کرنے سے گریز نہیں کرتا، اور بظاہر انہیں مغربی حکومتوں کے ساتھ سودے بازی کے لیے استعمال کرتا ہے۔
مثال کے طور پر احمدرضا جلالی، جو ڈیزاسٹر میڈیسن کے ماہر ہیں، 2016 میں ایران میں گرفتار ہوئے اور اب تک قید ہیں۔ ان پر جاسوسی کا الزام ہے اور انہیں سزائے موت کا سامنا ہے۔
اسی طرح ایک برطانوی جوڑا، کریگ فورمین اور لنڈسے فورمین پر جاسوسی کا الزام لگا کر 10 سال قید کی سزا سنائی گئی جنہیں جنوری 2025 میں دنیا کی سیاحت کے دوران ایران میں گرفتار کیا گیا۔
ایران کے ایسے اقدامات کے مقاصد عموماً بعد میں واضح ہوتے ہیں، اور اکثر ان کے پیچھے مالی مفادات ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر نازنین زاغری-ریٹکلف کو اپریل 2016 سے مارچ 2022 تک چھ برس ایران میں قید رکھا گیا۔ ان کی رہائی اسی وقت ممکن ہوئی جب برطانیہ نے ایران کو تقریباً 40 کروڑ پاؤنڈ (540 ملین ڈالر) ادا کرنے پر اتفاق کیا، یہ رقم دراصل 1979 کے انقلاب سے قبل محمد رضا پہلوی کے دور میں ٹینکوں کی ایک ادھوری خریداری سے متعلق قرض تھا۔
ستمبر 2023 میں ایران نے پانچ امریکی یرغمالیوں کو پانچ ایرانی قیدیوں کے بدلے رہا کیا، اور ساتھ ہی 6 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی فنڈز بھی بحال کر دیے۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نئیر ایسٹ پالیسی کے ایک تجزیے کے مطابق غلط طور پر قید امریکیوں کی رہائی کے لیے معاہدہ کرنا اگرچہ قابلِ جواز ہو سکتا ہے، لیکن یہ ایران کے اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ اغوا اس کے مقاصد حاصل کرنے کا ایک جائز طریقہ ہے۔
تجزیے کے مطابق امریکہ کی ایک طویل تاریخ رہی ہے کہ وہ ایرانی فنڈز کی منتقلی کو یرغمالیوں کی رہائی کے ساتھ جوڑتا رہا ہے، جیسا کہ 1981، 1991 اور 2016 میں ہوا۔
ہر معاملے میں امریکہ نے 1979 کے اسلامی انقلاب سے جڑے مالی تنازعات کے حل کے لیے ایران کے ساتھ معاہدے کیے، جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایران یا لبنان میں قید امریکیوں کی رہائی سے منسلک تھے۔
جنوری 2016 میں چار امریکیوں کو اس وقت ایران سے رہا کیا گیا، جب امریکہ نے ایران کو 40 کروڑ ڈالر اور 1.3 ارب ڈالر سود کے ساتھ ادا کرنے پر اتفاق کیا، یہ رقم دراصل اسلحہ خریدنے کے لیے دی گئی تھی لیکن انقلاب کے بعد اس وقت منجمد کر دی گئی تھی، جب جمی کارٹر امریکی صدر تھے۔
درحقیقت، ایرانی انقلاب کے ابتدائی دنوں میں ہی اس ریاست نے ’یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تاوان‘ کی حکمت عملی پر عمل کرنا شروع کر دیا تھا۔
4 نومبر 1979 کو شاہ کے خاتمے کے بعد ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا اور 66 امریکیوں کو یرغمال بنا لیا، جن میں سے 55 افراد 444 دن تک قید رہے۔

امریکہ نے ان کی رہائی کی بھی بہرحال ایک قیمت چکائی اور ایران کے تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے واپس کر دیے گئے۔
اپنے مضمون میں شیلی کٹلسن نے لکھا کہ ’مجھے عراق میں رپورٹنگ کے دوران کئی بار خبردار کیا گیا تھا کہ مجھے اغوا یا پھر قتل بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اس سے پہلے کبھی کوئی عملی کوشش نہیں ہوئی تھی۔‘
یہ بھی معلوم ہوا کہ اغوا سے قبل امریکی حکام نے انہیں ان کی جان کو لاحق خطرے سے آگاہ کر دیا تھا، ان کا نام ایک فہرست میں شامل تھا، اور کہا گیا تھا کہ کتائب حزب اللہ خواتین صحافیوں کو اغوا یا قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
کٹلسن کے اغوا اور رہائی کے اس ڈرامائی واقعے کے ذریعے تہران نے ایک واضح وارننگ دی ہے کہ کوئی بھی اگلا مغربی شہری جو اس کے کسی اتحادی کے ہاتھ لگا، وہ شاید اس قدر خوش نصیب نہ ہو۔












