پاکستان میں بڑی اور طاقت ور سمجھی جانے والی گاڑی ٹویوٹا فارچونر کی قیمت میں چند ہی ماہ کے دوران دوسری بار نمایاں کمی کی پیشکش نے آٹو مارکیٹ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
انڈس موٹرز کپمنی (آئی ایم سی) نے ایک مرتبہ پھر بڑی کمی کے ساتھ محدود مدت کے لیے ان گاڑیوں کی فروخت کا اعلان کیا ہے جسے بظاہر ایک پروموشنل پیشکش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مارکیٹ حلقے اسے بدلتی طلب اور معاشی دباؤ کا اشارہ بھی سمجھ رہے ہیں۔
انڈس موٹرز کمپنی (آئی ایم سی )نے اپریل 2026 میں ’35ویں سالگرہ‘ کے موقعے پر اس کے پیٹرول ویریئنٹس کی قیمت میں قریباً 25 لاکھ روپے تک کمی کا اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھیں
-
پیٹرول مہنگا، پاکستان میں سستی الیکٹرک گاڑیاں کون سی ہیں؟Node ID: 903062
پاکستان میں جہاں عام طور پر گاڑیوں کی قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں، وہاں کسی معروف ماڈل کی قیمت میں اتنی بڑی کمی خود ایک غیرمعمولی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
انڈس موٹرز کی جانب سے فراہم کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں فارچیونر جی (پیٹرول) کی قیمت قریباً ایک کروڑ 49 لاکھ روپے تھی جو اب کم ہو کر قریباً ایک کروڑ 24 لاکھ روپے رہ گئی ہے جبکہ فارچیونر وی (پیٹرول) کی قیمت میں بھی اسی نوعیت کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ کمی صرف پیٹرول ویریئنٹس تک محدود رہی ہے جبکہ ڈیزل ماڈلز کی قیمتیں برقرار ہیں جس سے یہ تأثر مضبوط ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ قیمت کا نہیں بلکہ طلب کے عدم توازن کا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی مخصوص ویریئنٹ کی قیمت میں بار بار کمی کی جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ خریدار اس کی خریداری میں احتیاط کر رہے ہیں۔
کراچی میں آٹو مارکیٹ سے وابستہ موٹر ڈیلر حارث قاسم اس صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گاڑیوں کی قیمت کم ہونا خود ایک بڑی خبر ہوتی ہے لیکن ایک ہی ماڈل میں چند ماہ کے اندر دو بار لاکھوں روپے کی کمی واضح کرتی ہے کہ مارکیٹ میں بنیادی تبدیلی آ چکی ہے۔
ان کے بقول اب خریدار صرف گاڑی کی شکل یا برانڈ نہیں دیکھتا بلکہ اس کے روزمرہ اخراجات کو بھی اہمیت دیتا ہے اور یہی عنصر پیٹرول فارچیونر کے خلاف جا رہا ہے۔
پاکستان میں 2026 کے دوران پیٹرول کی قیمت 390 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے جس کا براہ راست اثر بڑی انجن والی گاڑیوں پر پڑا ہے۔
فارچیونر کا 2.7 لیٹر پیٹرول انجن اور قریباً 80 لیٹر فیول ٹینک اسے مہنگی سواری بنا دیتا ہے۔ ایک مکمل ٹینک بھرنے پر 30 ہزار روپے سے زائد خرچ آتا ہے جبکہ شہری علاقوں میں اس کی فیول ایوریج بھی زیادہ تسلی بخش نہیں سمجھی جاتی۔
یہی وجہ ہے کہ خریدار اب نسبتاً کم فیول خرچ کرنے والی گاڑیوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
کراچی ہی کے ایک اور موٹر ڈیلر محمد فاروق کے مطابق مارکیٹ میں سست روی واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے۔
انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈیلرشپس پر پیٹرول فارچیونر کی گاڑیوں کی خرید و فروخت میں دلچسپی کم ہو گئی ہے۔
ان کے مطابق زیادہ تر خریدار یا تو ڈیزل ویریئنٹ کا پوچھتے ہیں یا پھر ہائبرڈ گاڑیوں کی طرف چلے جاتے ہیں جس کے باعث شاید کمپنی کو قیمت کم کر کے مارکیٹ کو متحرک کرنا پڑا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب سیلز سست ہو جائیں تو کمپنی کے پاس یا تو پیداوار کم کرنے کا راستہ ہوتا ہے یا قیمت کم کرنے کا اور شاید یہاں قیمت کم کرنا زیادہ فوری حل سمجھا گیا ہو۔

آٹو انڈسٹری میں ’انویٹری پریشر‘ ایک اہم اصطلاح ہے، جس کا مطلب ہے کہ کمپنی یا ڈیلرز کے پاس فروخت نہ ہونے والی گاڑیوں کا ذخیرہ بڑھ جائے۔
اگرچہ ٹیوٹا کی جانب سے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی تاہم مارکیٹ کے شواہد اس امکان کو تقویت دیتے ہیں کہ پیٹرول ویریئنٹس کی فروخت سست ہونے کے باعث سٹاک بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی کمپنی کو اپنی پروڈکٹ کی قیمت بار بار کم کرنا پڑے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ طلب اور رسد میں توازن بگڑ رہا ہے۔
فارچیونر کی قیمت میں کمی کا سب سے بڑا اثر استعمال شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ پر پڑا ہے۔ پاکستان میں طویل عرصے سے گاڑیوں کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا رہا ہے، جہاں خریدار توقع رکھتے ہیں کہ گاڑی کی قیمت وقت کے ساتھ بڑھے گی یا کم از کم برقرار رہے گی۔
تاہم موجودہ صورتحال میں یہ تصور کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر نئی فارچیونر قریباً ایک کروڑ 24 لاکھ روپے میں دستیاب ہے تو دو برس پرانی گاڑی کو اس سے زیادہ قیمت پر فروخت کرنا مشکل ہو گیا ہے جس کے باعث پرانے خریداروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
حارث قاسم کے مطابق جن افراد نے یہ گاڑی ایک کروڑ 50 لاکھ روپے یا اس سے زائد میں خریدی تھی، انہیں اب لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں یہ ایک نئی حقیقت ہے جہاں گاڑی کی قیمت میں کمی خریدار کے لیے فائدہ اور پرانے مالک کے لیے نقصان بن رہی ہے۔

محمد فاروق بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب گاڑی کو بطور سرمایہ کاری دیکھنے کا رجحان کم ہو رہا ہے، خاص طور پر پیٹرول گاڑیوں میں۔
ماہرین کے مطابق اگر کوئی صارف ذاتی استعمال کے لیے فارچیونر خریدنا چاہتا ہے تو موجودہ قیمت ایک بہتر موقع ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو کم ڈرائیو کرتے ہیں۔ تاہم سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے یہ فیصلہ اب پہلے جیسا محفوظ نہیں رہا۔ محمد فاروق کے مطابق پہلے گاڑی خرید کر فوری منافع حاصل کرنا ممکن تھا لیکن اب مارکیٹ کا رجحان تبدیل ہو چکا ہے اور خاص طور پر پیٹرول فارچیونر میں یہ امکان قریباً ختم ہو رہا ہے۔
فارچیونر کو پاکستان میں ہمیشہ ایک سٹیٹس سمبل کے طور پر دیکھا گیا ہے لیکن قیمتوں میں اس قدر بڑی کمی اس تاثر کو متاثر کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق جب ایک کمپنی اپنی پروڈکٹ کی قیمت میں لاکھوں روپے کی کمی کرے تو اس کا مطلب ہے کہ مارکیٹ میں اس کی پوزیشن کو برقرار رکھنا چیلنج بن رہا ہے۔












