ایران کا ایئر ڈیفنس سسٹم فعال، ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کی ڈیڈ لائن کا سامنا
ایران کے فضائی دفاعی نظام کو جمعرات کی رات گئے چھوٹے طیاروں اور ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے فعال کر دیا گیا جبکہ وائٹ ہاؤس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران جنگ پر کانگریس کی ڈیڈ لائن کے باعث خود کو محدود نہیں کرے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایرانی نیوز ایجنسیوں کے حوالے سے جمعے کو رپورٹ کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام، جس کی آواز ایرانی دارالحکومت کے کچھ حصوں میں سنی گئی، قریباً 20 منٹ تک ’چھوٹے طیاروں اور جاسوسی ڈرونز کا مقابلہ کرنے‘ کے لیے فعال کیا گیا تھا لیکن اب صورتحال ’نارمل‘ ہو گئی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ کے لیے کانگریس سے اجازت حاصل کرنے کے لیے آدھی رات کی ڈیڈ لائن کا سامنا تھا جس سے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان تصادم کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ کانگریس سے اجازت لینے کی 60 روزہ مدت کا وقت گزشتہ ماہ اعلان کردہ جنگ بندی کے باعث مؤثر طریقے سے رک چکا ہے۔
ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والی دشمنی ختم ہو چکی ہے کیونکہ 7 اپریل کی جنگ بندی کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا۔
تاہم ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک بیان میں امریکہ کی ’شرمناک شکست‘ کا اعلان کیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سمندری ناکہ بندی کی وارننگ کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اب اس بحران میں برتر پوزیشن پر ہے اور خلیج عرب اور آبنائے ہرمز پر تہران کے کنٹرول کی تعریف کی۔
مجتبیٰ خامنہ ای جو اپنے والد علی خامنہ ای کی موت کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے، انہوں نے پیش گوئی کی کہ خطے میں مداخلت کرنے والوں کی جگہ صرف سمندر کی تہہ میں ہے۔
اس بحران کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جہاں برینٹ کروڈ 126 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا۔
واشنگٹن اب اپنے اتحادیوں اور جہاز رانی کی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ایک بین الاقوامی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنایا جا سکے جبکہ ایران کی بندرگاہوں پر ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹلی اور اسپین سے امریکی افواج نکالنے کی دھمکی بھی دی ہے کیونکہ ان نیٹو اتحادیوں نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی حمایت نہیں کی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے انتباہ دیا ہے کہ جنگ کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے جلد ہی دوبارہ کارروائی کی ضرورت پڑ سکتی ہے جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کسی بھی دشمن کارروائی کا جواب ’دردناک اور طویل حملوں‘ سے دینے کی دھمکی دی ہے۔
تہران میں عام شہریوں کے درمیان شدید مایوسی پائی جاتی ہے کیونکہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور معاشی حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے جبکہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اسے تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران قرار دیا ہے۔
اس دوران لبنان کے محاذ پر بھی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی جاری ہے جس میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
امریکہ اب لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے درمیان ملاقات کرانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اس پھیلتی ہوئی جنگ کو روکا جا سکے۔
