ایران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے پاکستان کے ذریعے نئی تجویز پیش کر دی
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے پاکستان کے ذریعے نئی تجویز پیش کر دی
جمعہ 1 مئی 2026 15:58
ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے نئی تجویز پیش کی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے جمعرات کی شام اپنی تازہ ترین مذاکراتی تجویز کا متن امریکہ کے ساتھ بات چیت میں ثالث کے طور پر پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔
یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ اس نئی تجویز میں کیا شامل ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے مذاکراتی تجویز پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ ’بات چیت جاری ہے۔‘
وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سیکریٹری اینا کیلی نے اے ایف پی کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا، ’ہم نجی سفارتی بات چیت کی تفصیلات بیان نہیں کرتے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور امریکہ کی قلیل اور طویل مدتی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔‘
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا ایک ہی دور اسلام آباد میں ہوا تھا، جو 28 فروری کو شروع ہونے والی تقریباً 40 روزہ جنگ کے بعد عارضی جنگ بندی کے پس منظر میں منعقدا ہوا تھا۔
اس کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے، کیونکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر دی۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کو زیادہ تر بند رکھا ہوا ہے اور جنگ کے آغاز سے اب تک صرف محدود تعداد میں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔
جمعہ کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، قطر، ترکیہ، عراق اور آذربائیجان کے اپنے ہم منصبوں سے ٹیلیفون پر رابطے کیے۔
وزارت کے بیان کے مطابق ان رابطوں کے دوران ’جنگ کے خاتمے کے لیے اسلامی جمہوریہ کی تازہ کوششوں‘ پر بات چیت کی گئی۔
وال اسٹریٹ جرنل نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سکیورٹی حکام کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی کو مہینوں تک جاری رکھنے کی تیاری کریں، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔
جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی ناکامی کے باوجود جنگ بندی برقرار ہے۔ جمعہ کو ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ نے کبھی بھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا۔‘
تاہم، اس بات کی ایک اور علامت کے طور پر کہ کسی سمجھوتے تک پہنچنا مشکل ہو سکتا ہے، حسین محسنی نے عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ ’ہم یقینی طور پر کسی بھی مسلط کردہ چیز کو قبول نہیں کرتے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ تہران جنگ کی طرف واپسی نہیں چاہتا۔
صدر ٹرمپ کو جنگ کے حوالے سے اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ (فوٹو: اے پی)
’ہم کسی بھی صورت میں جنگ کا خیرمقدم نہیں کرتے؛ ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم اس کے جاری رہنے کے بھی خواہاں نہیں ہیں۔‘
جنگ بندی برقرار رہنے کے باوجود مارکیٹوں میں پریشانی برقرار ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے 50 فیصد سے زیادہ بلند ہیں۔
جنگی اختیارات پر بحث
ادھر واشنگٹن میں اس بات پر قانونی بحث جاری ہے کہ آیا صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے لیے کانگریس کی منظوری حاصل کرنے کی مقررہ مدت کو پار کر لیا ہے یا نہیں۔
انتظامیہ کے عہدیداروں، جن میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باعث 60 دن کی اس مدت کو روک دیا گیا ہے جس کے تحت صدر کو کانگریس سے جنگی اختیارات کی منظوری لینا ضروری ہے۔
ایک سینئر انتظامی عہدیدار نے جمعرات کی رات اے ایف پی کو بتایا، ’وار پاورز ریزولوشن کے مقاصد کے لیے، 28 فروری بروز ہفتہ شروع ہونے والی جنگ ختم ہو چکی ہے۔‘
صدر ٹرمپ کو جنگ کے حوالے سے اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ واضح فتح نظر نہیں آ رہی، تنازعے کے باعث مہنگائی بڑھ رہی ہے اور نومبر میں وسط مدتی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔
جمعرات کو امریکی حکومتی اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ معاشی ترقی توقع سے کم رہی جبکہ مہنگائی 3.5 فیصد تک پہنچ گئی۔