تیل کی قیمتیں بڑھنے سے طویل پروازوں کی لاگت میں 100 ڈالر کا اضافہ، رپورٹ
تیل کی قیمتیں بڑھنے سے طویل پروازوں کی لاگت میں 100 ڈالر کا اضافہ، رپورٹ
منگل 21 اپریل 2026 11:03
ٹی اینڈ ای نے یورپ سے تمام پروازوں کے روٹس پر اوسطاً ایندھن خرچ ہونے کا حساب لگایا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران جنگ کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے سے طویل فاصلے کی پروازوں کی لاگت میں 100 ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا ہے جس سے ٹکٹس کی قیمتیں بڑھنے کا بھی امکان ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے کیمپین گروپ ٹرانسپورٹ اینڈ انوائرمنٹ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یورپ سے طویل فاصلے کے لیے اڑان بھرنے والے جہاز میں استعمال ہونے والا ایندھن ہر مسافر کے لیے 88 یورو تک بڑھا ہے جبکہ یورپ کے اندر سفر لیے یہ اضافہ 29 یورو ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس تجزیے میں 28 فروری کو جنگ کے شروع ہونے سے پہلے اور اس کے شروع ہونے کے بعد سے لے کر 16 اپریل تک کی قیمتوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔
ٹی اینڈ ای کی جانب سے منگل کو شائع کیے گئے تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ بارسلونا سے برلن تک سفر کرنے والے ہر مسافر کے لیے ایندھن 26 یورو مہنگا ہوا ہے جبکہ اگر لمبی پرواز ہو جیسے پیرس سے نیویارک تو اس کا خرچہ 129 یورو تک چلا جاتا ہے۔
یورپ کی ایئرلائنز مشکل سپرنگ اور سمر سیزنز کی تیاری کر رہی ہیں۔
ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے جیٹ ایندھن کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ بڑھ چکی ہیں اور اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ تیل کی قلت پروازوں کی منسوخی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
یورپی یونین کم ہوتے جیٹ ایندھن کے انتظامات سے متعلق بدھ کو ہدایات جاری کرنے کی تیاری بھی کر رہی ہے۔
ٹی اینڈ ای نے یورپ سے روانہ ہونے والی تمام پروازوں کے روٹس پر اوسطاً ایندھن خرچ ہونے کا حساب لگایا ہے اور پھر اس کو مسافروں کی تعداد پر تقسیم کیا گیا ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ فی مسافر کتنا خرچہ بڑھا ہے۔
ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ریان ایئر، لفتھانزا اور ایئر فرانس کے ایگزیکٹیوز نے مارچ کے دوران کہا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز طویل مدت تک کے لیے بند رہتی ہے تو وہ مہنگے ہوتے ایندھن کا بوجھ صارفین پر منتقل کر سکتے ہیں۔
گروپ کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق اخراجات سے کہیں زیادہ ہیں جو ایئرلائنز کو یورپی یونین کے ضوابط کی تعمیل میں برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ٹی اینڈ ای کے ڈائریکٹر ایوی ایشن ڈیان ویٹری کا کہنا ہے کہ ’مشرق وسطیٰ کا بحران ثابت کرتا ہے کہ ہماری اصل کمزوری غیرملکی تیل سے بھرا ہوا ٹینک ہے نہ کہ وہ قواعد جو اس کو ٹھیک کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔‘
ایئرلائنز کی جانب یورپی یونین کی آب و ہوا سے متعلق پالیسیوں کو واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے جن میں گرین جیٹ ایندھن کے استعمال کے مینڈیٹ کے ساتھ ساتھ کاربن کی قیمتوں سے متعلق قوانین کا جائزہ بھی شامل ہے۔