Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بال اب امریکہ کے کورٹ میں ہے لیکن ہم مذاکرات یا جنگ دونوں کے لیے تیار ہیں: ایران

ہفتے کی صبح ایرانی فوج کے مرکزی کمان کے سینئر عہدیدار محمد جعفر اسدی نے کہا کہ ’ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ تنازعہ ممکن ہے۔‘ (فوٹو: روئٹرز)
ایران نے ہفتے کے روز کہا کہ یہ اب امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے حل نکالنا چاہتا ہے یا کھلی جنگ کی طرف واپس جانا، تاہم تہران دونوں صورتوں کے لیے تیار ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے تہران میں سفارتکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اب یہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سفارتکاری کا راستہ اختیار کرے یا محاذ آرائی جاری رکھے۔‘
انہوں نے کہا، ’ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے دونوں راستوں کے لیے تیار ہے۔‘
یہ بیانات اس کے بعد سامنے آئے جب ایک سینئر ایرانی فوجی افسر نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ لڑائی ’ممکن‘ ہے، جبکہ اس سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی نئی مذاکراتی پیشکش پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
قبل ازیں ہفتے کی صبح ایران کے ایک سینئر فوجی افسر نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ لڑائی کا امکان ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس تبصرے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ ایران کی نئی مذاکراتی پیشکش سے مطمئن نہیں ہیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے یہ مسودہ جمعرات کی شام ثالث پاکستان کے حوالے کیا، تاہم اس کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس وقت میں ان کی پیشکش سے مطمئن نہیں ہوں،‘ اور مذاکرات میں تعطل کی وجہ ایران کی قیادت کے اندر ’شدید اختلافات‘ کو قرار دیا تھا۔
ہفتے کی صبح ایرانی فوج کے مرکزی کمان کے سینئر عہدیدار محمد جعفر اسدی نے کہا کہ ’ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ تنازعہ ممکن ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کسی بھی وعدے یا معاہدے کا پابند نہیں ہے۔‘
ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژئی نے جمعے کے روز کہا تھا کہ ان کا ملک ’کبھی بھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا،‘ تاہم انہوں نے واضح کیا تھا کہ ایران ’مسلط کردہ‘ امن شرائط قبول نہیں کرے گا۔
وائٹ ہاؤس نے ایران کی تازہ پیشکش کی تفصیلات دینے سے انکار کیا ہے، تاہم خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق امریکی نمائندہ سٹیو وٹکوف نے ایسی ترامیم پیش کی ہیں جن میں ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ مذاکرات کا حصہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان ترامیم میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران بمباری سے متاثرہ مقامات سے افزودہ یورینیم نہ منتقل کرے اور نہ ہی مذاکرات کے دوران وہاں سرگرمیاں بحال کرے۔

شیئر: