الاحسا کی محبوب بلبل: مملکت میں کسانوں کی خوشی کی علامت
بلبل کی سریلی آواز فضا میں تازگی بکھیرتی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں الاحسا ریجن کے نخلستانوں، باغات اور کھیتوں کے درمیان صبح پرندوں کی سریلی آوازیں پورے علاقے میں خوشی اور سکون کا احساس ظاہر کرتی ہیں۔
یہاں کے کسان عام طور پر بلبل کی خوبصورت چہچاہٹ کی نقالی کرتے ہیں جو اس خوش آواز پرندے اور کسان کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق الاحسا، نخلستانوں اور میٹھے پانی کے بہتے ہوئے چشموں کا ایک سرسبز علاقہ ہے۔ یہاں بلبل کی ایک خاص قسم ہے جسے مقامی لوگ ’بلبل الحساوی‘ کہتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹا اور دلکش پرندہ ہے جس کے گال سفید ہوتے ہیں۔
بلبل الحساوی دیگر اقسام کی طرح ایک معروف نسل ہے. یہ پرندہ اپنی ذہانت، وفاداری اور آسانی سے مانوس ہونے کی صلاحیت کی وجہ سے الاحسا کے ماحول اور ثقافت کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ اسے نرمی، محبت اور موسیقی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
عموماً نر اور مادہ دونوں مل کر اپنا گھونسلہ بناتے ہیں۔ کھجور کے درخت کے ریشے، شاخیں اور دیگر قدرتی مواد کا استعمال کرتے ہیں۔ گھونسلوں کو گول پیالہ نما شکل دیتے ہیں اور اندر سے پتوں اور گھاس سے نرم کرتے ہیں۔

بلبل، عموماً درختوں والے ماحول جیسے جنگلات اور نخلستانوں میں رہتی ہے، اسی لیے یہ الاحسا کے کھیتوں اور باغات کے علاوہ وادیوں میں بکثرت پائی جاتی ہے۔
کنگ فیصل یونیورسٹی سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عودہ ناصر کے مطابق حیاتیاتی تنوع اور صاف ستھرا ماحول وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے ہزاروں برس سے پرندوں، خصوصاً بلبل کو الاحسا میں بسانے کی کوشش کی۔
انہوں نے بتایا کہ ’پرندے یہاں کے کھیتوں، باغات اور گھروں سے مانوس ہو چکے ہیں جبکہ الاحسا کے لوگ بھی ان سے محبت کرتے ہیں۔‘

بلبل حساوی کی کئی نسلی اور جنیاتی خصوصیات ہیں۔ یہ دیگر خلیجی ممالک کے مقابلے میں زمانہ قدیم سے الاحسا میں آباد ہے۔ خلیجی ممالک میں پرندوں کے شوقین افراد خصوصاً الاحسا کی بلبل کو پالنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
یہ اپنی خوبصورت ساخت، دلکش رنگوں اور خوش آہنگ چہچہاہٹ کی وجہ سے منفرد ہے۔ اس کی سریلی آواز فضا میں تازگی بکھیرتی ہے۔
ڈاکٹر عودہ ناصر نے زور دیا کہ ’اس پرندے کے شکار اور فروخت کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ فطرت کے درمیان محفوظ زندگی گزار سکے۔‘
