ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ پیر کے روز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالنے میں مدد کا آغاز کرے گا جبکہ ایک ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اس اہم گزرگاہ میں کسی بھی امریکی ’مداخلت‘ کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی رہنمائی کے اقدام کو ’پروجیکٹ فریڈم‘ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں
-
آبنائے ہرمز بحران: کیا دنیا میں چینی مہنگی ہونے والی ہے؟Node ID: 903662
ان کے بقول ’واشنگٹن غیرجانبدار اور معصوم ممالک کی مدد کرے گا جن کے جہاز ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ممنوعہ پانیوں میں سے ان جہازوں کو باہر لانے کے لیے رہنمائی فراہم کریں گے تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنے کام کو آگے بڑھا سکیں۔‘
امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ آپریشن پیر کی صبح مشرق وسطیٰ میں شروع ہو گا۔
ان کے بقول امریکی نمائندے ایران کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہیں اور اس کے ’انتہائی مثبت‘ نتائج نکل سکتے ہیں۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس اقدام میں گائیڈڈ میزائل، 100 سے زیادہ طیارے اور 15 ہزار سروس ارکان شامل ہوں گے۔

پینٹاگون کی جانب سے فوری طور پر ایسے سوالات کا جواب نہیں دیا گیا جن میں پوچھا گیا تھا کہ سروس ارکان کو وہاں کیسے تعینات کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کی امن تجاویز پر امریکہ کا جواب موصول ہو گیا ہے۔
ایرانی پارلیمان کے سکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’آبنائے ہرمز کی حدود میں امریکہ کی کسی بھی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔‘
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تجارت کے حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہے جس کو ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد بند کر دیا تھا جس سے عالمی سطح پر تیل کی تجارت کو دھچکا لگا اور قیمتیں تیزی سے بڑھیں۔

ایک انداز کے مطابق اس وقت متعدد جہاز آبنائے ہرمز کے قریبی ایریا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان میں ایک انداز کے مطابق 20 ہزار افراد سوار ہیں جو زیادہ تر جہازوں کے عملے ارکان ہیں۔
ارکان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا سے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے میزائل جہازوں پر سے اڑتے اور ڈرون منڈلاتے ہوئے دیکھے ہیں اور ان کے پاس کھانے پینے کے سامان کی بھی کمی ہے۔
امریکی صدر نے اس عمل کو انسانی ہمدردی کے تحت قرار دیا ہے وار کہا ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے سختی سے نمٹا جائے گا۔













