Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آبنائے ہرمز میں امریکہ کا جہازوں کی حفاظت کا اعلان سیز فائر کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا: ایران

ایران نے امریکی اقدام کو ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے (فوٹو: روئٹرز)
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ پیر کے روز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالنے میں مدد کا آغاز کرے گا جبکہ ایک ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اس اہم گزرگاہ میں کسی بھی امریکی ’مداخلت‘ کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی رہنمائی کے اقدام کو ’پروجیکٹ فریڈم‘ قرار دیا ہے۔
ان کے بقول ’واشنگٹن غیرجانبدار اور معصوم ممالک کی مدد کرے گا جن کے جہاز ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ممنوعہ پانیوں میں سے ان جہازوں کو باہر لانے کے لیے رہنمائی فراہم کریں گے تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنے کام کو آگے بڑھا سکیں۔‘
امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ آپریشن پیر کی صبح مشرق وسطیٰ میں شروع ہو گا۔
ان کے بقول امریکی نمائندے ایران کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہیں اور اس کے ’انتہائی مثبت‘ نتائج نکل سکتے ہیں۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس اقدام میں گائیڈڈ میزائل، 100 سے زیادہ طیارے اور 15 ہزار سروس ارکان شامل ہوں گے۔

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی رہنمائی کے اقدام کو ’پراجیکٹ فریڈم‘ قرار دیا ہے (فوٹو: روئٹرز)

پینٹاگون کی جانب سے فوری طور پر ایسے سوالات کا جواب نہیں دیا گیا جن میں پوچھا گیا تھا کہ سروس ارکان کو وہاں کیسے تعینات کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کی امن تجاویز پر امریکہ کا جواب موصول ہو گیا ہے۔
ایرانی پارلیمان کے سکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’آبنائے ہرمز کی حدود میں امریکہ کی کسی بھی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔‘
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تجارت کے حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہے جس کو ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد بند کر دیا تھا جس سے عالمی سطح پر تیل کی تجارت کو دھچکا لگا اور قیمتیں تیزی سے بڑھیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے نئی امن تجویز پر امریکہ کا جواب موصول ہو گیا ہے (فوٹو: روئٹرز)

ایک انداز کے مطابق اس وقت متعدد جہاز آبنائے ہرمز کے قریبی ایریا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان میں ایک انداز کے مطابق 20 ہزار افراد سوار ہیں جو زیادہ تر جہازوں کے عملے ارکان ہیں۔
ارکان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا سے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے میزائل جہازوں پر سے اڑتے اور ڈرون منڈلاتے ہوئے دیکھے ہیں اور ان کے پاس کھانے پینے کے سامان کی بھی کمی ہے۔
امریکی صدر نے اس عمل کو انسانی ہمدردی کے تحت قرار دیا ہے وار کہا ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

ایران امریکہ جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز بند ہے (فوٹو: روئٹرز)

امن تجاویز پر امریکہ کا جواب موصول ہو گیا: ایران

ایران نے کہا ہے کہ اسے تازہ امن مذاکرات کے لیے پیش کی گئی تجاویز پر امریکہ کا جواب موصول ہو گیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ ردعمل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان ایک روز بعد بھجوایا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’ایرانی تجویز کو ممکنہ طور پر مسترد کر دیا جائے گا اور انہوں (ایران) نے ابھی تک بڑی قیمت ادا نہیں کی۔‘
ایران کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ واشنگٹن نے 14 نکات پر مشتمل تجویز کا جواب دیا ہے جس کا اب تہران جائزہ لے رہا ہے۔
امریکی جواب کے حوالے سے فوری طور پر واشنگٹن یا اسلام آباد کی جانب سے تصدیق نہیں ہوئی۔

شیئر: