Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’یقین ہے کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا‘، اور پھر گلاں بھارو کو قتل کر دیا گیا

سکھر کی ایک عدالت کے احاطے میں کھڑی ایک نوجوان خاتون نے چند روز قبل ایک ایسا جملہ کہا تھا جو اب ایک ہولناک حقیقت بن چکا ہے۔
’مجھے یقین ہے کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا۔‘ یہ الفاظ گلاں بھارو کے تھے دو بچوں کی ماں، جو اپنی جان بچانے کے لیے عدالت، پولیس اور دارالامان تک جا پہنچی تھی، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے ہی خاندان کے ہاتھوں ’غیرت کے نام پر‘ قتل کر دی گئی۔
عدالت کے باہر ایک فیصلہ کن لمحہ
 سکھر کی مقامی عدالت کے باہر کا وہ منظر اب سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ ویڈیو میں ایک بزرگ شخص گلاں بھارو کا والد اپنی پگڑی بیٹی کے قدموں میں رکھتا ہے۔ 
سندھی ثقافت میں پگڑی عزت اور وقار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اسے کسی کے قدموں میں رکھنا ایک انتہائی غیر معمولی اور جذباتی عمل ہے، جو عاجزی اور درخواست کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ 
گلاں بھارو جو اس وقت تک اپنی جان کے خطرے کا اظہار کر چکی تھی، اس منظر کے بعد اپنا فیصلہ بدل دیتی ہے۔ عدالت کے اندر جج کے سامنے، وہ بیان دیتی ہے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔
اس سے قبل عدالت نے اسے دارالامان بھیجنے کا حکم دیا تھا، ایک ایسی جگہ جہاں وہ محفوظ رہ سکتی تھی، لیکن اس دن اس نے ایک مختلف راستہ اپنایا۔
گلاں بھارو کی شادی قریباً چھ سال قبل ہوئی تھی۔ شادی کے ابتدائی برسوں کے بعد اس کی زندگی میں اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، گذشتہ تین برسوں سے وہ اپنے شوہر کے مبینہ تشدد کا شکار تھی۔ 
ان کے قریبی ذرائع کے مطابق گلاں کو جسمانی اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس کے باعث انہوں نے کئی بار اپنے والدین اور مقامی افراد سے مدد طلب کی۔ 
گلاں کے دو بچے بھی تھے، جن میں سے ایک کو وہ اپنے ساتھ رکھنا چاہتی تھی، تاہم اُن کے شوہر نے انہیں نہ صرف بچوں سے دُور رکھنے کی کوشش کی بلکہ اُن پر ’کاروکاری‘ کا الزام بھی عائد کر دیا۔ ایک ایسا الزام جو سندھ کے دیہی علاقوں میں اکثر عورتوں کے قتل کا جواز بن جاتا ہے۔
گھر چھوڑنے کے بعد نے جھانگڑو پولیس تھانے میں پناہ لی۔ پولیس نے گلاں بھارو کو عدالت میں پیش کیا جہاں ابتدائی طور پر انہیں دارالامان بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 
یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکام نے حالات کو خطرناک سمجھا تھا، لیکن پھر وہی لمحہ آیا، عدالت کے باہر باپ کی اپیل جس نے سب کچھ بدل دیا۔
’عزت‘ اور ’زندگی‘ کے درمیان انتخاب
عدالت میں گلاں بھارو کے بیان نے بہت سوں کو چونکا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’یقین ہے کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا، لیکن میرے والد نے اپنی پگڑی میرے قدموں میں رکھ دی ہے، اور والد کی عزت کی خاطر مجھے موت بھی قبول ہے۔‘
عدالت نے اس بیان کی بنیاد پر انہیں والد کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
سکھر پولیس کے مطابق گلاں بھارو کو قریباً 10 روز قبل عدالتی احکامات پر اُن کے والد کی تحویل میں دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گلاں بھارو کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔
سینیئر صحافی عبدالقیوم نے اردو نیوز کو بتایا کہ پولیس نے مرکزی ملزم مقتولہ کے ماموں کو گرفتار کر لیا ہے اور آلۂ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے، پولیس نے مرکزی ملزم مولا بخش بھارو کو عدالت میں پیش کیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر اعترافِ جُرم کرتے ہوئے بیان دیا کہ اس نے اپنی 23 سال کی بھانجی گلاں بھارو کو ’غیرت‘ کے نام پر قتل کیا۔ 
عدالت کے روبرو ملزم نے اپنے فعل پر بظاہر ندامت کا اظہار کیا، تاہم اسے ’غیرت‘ سے جوڑنے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق اس واقعے کا مقدمہ چار افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، جن میں سے دو کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
 گلاں بھارو کا کیس ایک الگ واقعہ نہیں۔ مقامی صحافی عبدالقیوم کے مطابق سندھ میں ’کاروکاری‘ کے نام پر ہر سال درجنوں افراد کو قتل کردیا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر سال سینکڑوں خواتین اس طرح کے جرائم کا شکار ہوتی ہیں، جن میں سے کئی کیسز رپورٹ بھی نہیں ہوتے۔
سماجی کارکن شاکر صابر نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اس طرح کے کیسز میں صرف قانون کافی نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں ہے، یہ ایک گہرا سماجی مسئلہ ہے۔‘
’جب تک معاشرہ ‘غیرت’ کے تصور کو تبدیل نہیں کرے گا، ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔خواتین اکثر خاندانی دباؤ، معاشی انحصار اور سماجی بدنامی کے خوف کی وجہ سے ایسے فیصلے کرتی ہیں جو ان کی اپنی سلامتی کے خلاف ہوتے ہیں۔’
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتیں اکثر متاثرہ فرد کے بیان کو بنیاد بناتی ہیں، لیکن ایسے کیسز میں جہاں واضح خطرہ موجود ہو، اضافی احتیاط ضروری ہوتی ہے۔
ویڈیوز اور عوامی ردِعمل
عدالت سے باہر کی ویڈیوز، جن میں گلاں بھارو اپنے والد کے ساتھ جانے کا فیصلہ کرتی ہے، میڈیا پر سامنے آچکی ہیں۔ ان ویڈیوز نے عوامی ردِعمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔ 
سوشل میڈیا پر کئی افراد نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ واقعی گلاں بھارو کا آزادانہ فیصلہ تھا؟ یا وہ شدید جذباتی دباؤ کا شکار تھیں؟
جامعہ کراچی شعبہ جرمیات کی سربراہ ڈاکٹر نائمہ سعید نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ’غیرت کے نام پر‘ قتل کے خلاف قوانین موجود ہیں، اور حالیہ برسوں میں ان قوانین کو مزید سخت بھی کیا گیا ہے، لیکن مسئلہ صرف قانون کا نہیں بلکہ اس کے نفاذ اور معاشرتی قبولیت کا بھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بہت سے کیسز میں خاندان کے افراد ہی قاتل ہوتے ہیں اور بعد میں ایک دوسرے کو ’معاف‘ کر دیتے ہیں، جس سے انصاف کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

شیئر: