لاہور میں چوری کی وہ واردات جس کی بدولت نانی، دادی سمیت پورا خاندان بے نقاب
لاہور میں چوری کی وہ واردات جس کی بدولت نانی، دادی سمیت پورا خاندان بے نقاب
منگل 5 مئی 2026 8:21
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
پولیس نے کیس کو ٹریس کرنے کے لیے جدید اور روایتی دونوں طریقوں کا سہارا لیا (فائل فوٹو: پنجاب پولیس)
پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے پوش علاقے میں ایک واردات نے جب تفتیش کا رخ بدلا تو اس کے پیچھے چھپے ایسے حقائق بھی سامنے آئے جن کی بدولت مبینہ طور پر پورے خاندان کا نیٹ ورک سامنے آیا۔ یہ کوئی نہیں سوچ سکتا تھا کہ چوری کی واردات پر تفتیش کرتی پولیس چوروں کی نانی، دادی اور والد والدہ کی وارداتوں کی تفصیلات بھی ڈھونڈ لیں گی۔
اپریل کے پہلے ہفتے معروف ٹک ٹاکر اسد اسحاق (سڈ ریپر) کے گھر نقب ہوئی۔ لاہور کے تھانہ ہیر میں درج ایف آئی آر کے مطابق ملزمان قیمتی سامان چوری کر کے لے گئے تھے جن میں تقریباً 15 لاکھ روپے مالیت کا سونی کیمرہ، ایپل لیپ ٹاپ، زیورات اور دیگر اشیاء شامل تھیں۔ اس واقعے سے متعلق ٹک ٹاکر سڈ ریپر اور ان کی اہلیہ نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنائی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئیں۔
خود متاثرہ ٹک ٹاکر کے مطابق یہ ویڈیو اعلٰی حکام تک پہنچی اور اس دوران حکومتی رہنما بھی ان کے ساتھ رابطے میں رہے جنہوں نے یقین دہانی کرائی کہ نہ صرف ملزمان گرفتار ہوں گے بلکہ مال مسروقہ بھی برآمد کیا جائے گا۔
چند ہفتوں پر محیط تفتیش کے بعد لاہور پولیس نے گزشتہ دنوں چار رکنی گینگ کو گرفتار کر لیا۔ اس کارروائی کی قیادت ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کر رہے تھے جبکہ دیگر افسران میں ایس ایس پی آپریشنز اور تھانہ ہیر کی ٹیم شامل تھی۔ گرفتار ملزمان میں سرغنہ ابراہیم عرف اے بی، علی حمزہ، محمد ساجد اور آسیہ بی بی شامل ہیں۔
یہاں تک کی کہانی پولیس آپریشن اور تفتیش پر مبنی تھی لیکن اصل حیرت انگیز پہلو تفتیش کے دوران تب سامنے آیا جب پولیس کو معلوم ہوا کہ اس واردات میں ملوث چار افراد آپس میں رشتہ دار ہیں اور ان کے بزرگ بھی ایسی وارداتوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق یہ چاروں ملزمان آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں اور یہی نہیں، ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی ماضی میں چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔
سامان برآمد ہونے پر ٹک ٹاکر سڈ ریپ ے پنجاب حکومت اور پولیس کا شکریہ ادا کیا (فوٹو: سکرین گریب)
ایس ایس پی آپریشنز توقیر نعیم اس حوالے سے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اس گینگ کے کئی افراد پر پہلے بھی مقدمات درج ہو چکے ہیں حتیٰ کہ ان کی نانی، دادی، والد اور والدہ بھی اسی نوعیت کے جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ یوں کہہ لیں یہ نسل در نسل چوریوں میں ملوث تھے۔‘
تفتیشی حکام کے مطابق یہ گینگ نہایت منظم طریقے سے وارداتیں کرتا تھا۔
ایس ایس پی توقیر نعیم نے کہا کہ ’یہ لوگ پہلے خالی گھروں کی ریکی کرتے ہیں پھر مناسب موقع دیکھ کر دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوتے اور قیمتی سامان چرا لیتے ہیں۔ واردات کے بعد سامان کو فوری طور پر لاہور سے باہر قصور اور نور پور نہر کے اطراف منتقل کر دیا جاتا تاکہ ٹریس کرنا مشکل ہو جائے۔‘
ان کے مطابق پولیس نے اس کیس کو ٹریس کرنے کے لیے جدید اور روایتی دونوں طریقوں کا سہارا لیا۔
’ابتدا میں سی سی ٹی وی فوٹیج سے سراغ ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی لیکن ایک مقام کے بعد کیمرے ناکام ہو گئے۔ اس کے بعد جیو فینسنگ کی مدد سے ہزاروں افراد کا ڈیٹا حاصل کیا گیا اور کال ریکارڈز کا تجزیہ کیا گیا۔ اس پیچیدہ عمل کے نتیجے میں 25 مشکوک افراد کی نشاندہی ہوئی جن میں سے بالآخر چار ملزمان تک رسائی حاصل کی گئی۔ یہ وہی چار افراد تھے جو موقع واردات پر موجود تھے اور اس علاقے میں پہلے کبھی نہیں آئے تھے۔‘
ٹک ٹاکر سڈ ریپر کے گھر سے تقریباً 15 لاکھ روپے مالیت کا سونی کیمرہ، ایپل لیپ ٹاپ اور زیورات چورے ہوئے تھے (فوٹو: انسٹاگرام)
تفتیشی حکام کے مطابق یہ تفتیش دو سے تین ہفتوں پر محیط رہی جس کے دوران قصور، اوکاڑہ اور دیگر علاقوں میں چھاپے مار کر ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
ایس ایس پی آپریشنز توقیر نعیم بتاتے ہیں کہ پولیس نے سیڈ ریپر کے کیس میں مکمل مال مسروقہ برآمد کر لیا ہے جس میں ایپل لیپ ٹاپ، سونی کیمرہ، جیولری، مہنگے پرفیومز اور قیمتی ملبوسات شامل ہیں۔
اس کیس کی تفتیش کے دوران ان افراد کے دو دیگر وارداتوں کا سراغ بھی ملا جس میں مال مسروقہ برآمد کر لیا گیا ہے۔