آبنائے ہرمز پر جنگ نہیں چاہتے لیکن ایرانی حملے کا تباہ کن جواب دیا جائے گا: امریکہ
آبنائے ہرمز پر جنگ نہیں چاہتے لیکن ایرانی حملے کا تباہ کن جواب دیا جائے گا: امریکہ
منگل 5 مئی 2026 15:29
جنرل ڈین کین نے بتایا کہ 100 سے زائد امریکی فوجی طیارے ’24 گھنٹے‘ فضا میں گشت کر رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی محکمۂ جنگ (پینٹاگون) کے سربراہ پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں ’جنگ کا خواہاں نہیں ہے‘ تاہم بحری جہازوں پر کسی بھی ایرانی حملے کا ’تباہ کن‘ جواب دیا جائے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کے روز صحافیوں کو نیوز بریفنگ کے دوران پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ’ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن ایران کو اس بات کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی کہ وہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے بے قصور ممالک اور ان کے سامان کی نقل و حمل کو روکے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ (ایران) نے امریکی فوجیوں یا تجارتی بحری جہازوں پر حملہ کیا تو آپ کو امریکہ کی انتہائی شدید اور تباہ کن فائر پاور کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
حالیہ کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ جنگ نے واضح کیا کہ بعض ایرانی حملوں اور جاری امریکی ناکہ بندی کے باوجود جنگ بندی کا معاہدہ تاحال نافذ العمل ہے اور یہ ختم نہیں ہوئی۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے اب بھی ’ہر وقت تیار‘ (لاکڈ اینڈ لوڈڈ) ہیں۔
پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ پینٹاگون کی ترجیح یہی ہے کہ پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی حالیہ کوششیں پرامن رہیں، لیکن اگر حالات بدلتے ہیں تو امریکی فوج ہر صورتحال کے لیے تیار ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ ’یہ ہمارے لیے ایک عارضی مشن ہے اور ہمارا مقصد اس آبی گزرگاہ کا کنٹرول دوبارہ ان ممالک کے حوالے کرنا ہے جنہیں اس راستے کی ہم سے کہیں زیادہ ضرورت ہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ عالمی برادری اس سلسلے میں آگے بڑھے گی۔
پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ پینٹاگون کی ترجیح ہے کہ بحری جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی کوششیں پرامن رہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بریفنگ کے دوران جنرل ڈین کین نے بتایا کہ 100 سے زائد امریکی فوجی طیارے ’24 گھنٹے‘ فضا میں گشت کر رہے ہیں اور منگل کا دن نسبتاً ’پرسکون‘ رہا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت خلیج فارس میں 1550 سے زائد بحری جہازوں پر 22 ہزار 500 سیلرز موجود ہیں جو سفر کرنے سے قاصر ہیں۔
جنرل ڈین کین نے 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے فوجیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ فوجی سرگرمیوں کو مربوط بنانے کے لیے ’اگلی نسل کے جدید ترین ٹیکٹیکل نیٹ ورکس‘ کا استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک ایران نے نو مرتبہ تجارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کی ہے، دو کنٹینر بردار جہازوں کو قبضے میں لیا ہے اور دس سے زائد مرتبہ امریکی افواج پر حملے کیے ہیں، لیکن یہ تمام کارروائیاں فی الحال اس حد سے کم ہیں جہاں سے دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگی آپریشنز کا آغاز ہو۔‘