Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چارسدہ: سابق ایم پی اے مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جان سے گئے

پولیس کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب مولانا ادریس دارالعلوم اتمانزئی جا رہے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ سے تعلق رکھنے والے عالم دین اور سابق رکن صوبائی اسمبلی مولانا ادریس ایک قاتلانہ حملے میں جان سے گئے۔
رپورٹس کے مطابق واقعہ منگل کو اس وقت اتمانزئی میں پیش آیا جب مولانا ادریس دارالعلوم اتمانزئی جا رہے تھے۔ اسی دوران حملہ آوروں نے اچانک فائرنگ کر دی جس سے مولانا ادریس شدید زخمی ہو گئے۔
ان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم وہ راستے میں دم توڑ گئے جبکہ واقعے ان کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے جن کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
مولانا ادریس ہسپتال منتقل کیے جانے کے دوران راستے میں دم توڑ گئے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اظہار افسوس

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جے یو آئی کے سابق ایم پی اے اور عالم دین مولانا محمد ادریس پر حملے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
ایک بیان میں وزیراعظم نے ان کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور زخمی پولیس اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
علاوہ ازیں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا سخت نوٹس لیا ہے اور اعلیٰ پولیس حکام سے رپورٹ طلب کی ہے۔
واقعے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گہا ہے کہ ’مولانا محمد ادریس کی شہادت افسوسناک ہے، ہم اس مشکل گھڑی میں ان کے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
اسی طرح انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے واقعے کا سخت نوٹس لیا اور پولیس حکام سے رپورٹ طلب کی ہے۔
خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق آئی جی پی نے آر پی او مردان سے فوری طور پر رپورٹ طلب کی ہے اور جلد از جلد ملزمان کی گرفتاری یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
آئی جی پی کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کا جلد سراغ لگا کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
 

 

شیئر: