Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب میں خواتین تعمیراتی شعبے میں تاریخ رقم کر رہی ہیں

سعودی عرب میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد میں کافی تیزی سے اضافہ ہوا ہے (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب میں آج کل تیزی سے بڑے پیمانے پر تعمیراتی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے اور ایک ایسے میدان میں جہاں ہمیشہ مرد روایتی طور پر غالب رہے ہیں وہاں خواتین بڑی ثابت قدمی سے ایک نیا نقطۂ نظر متعارف کراتے ہوئے مملکت کے تعمیری ماحول کو نئی شکل دے رہی ہیں۔
کانوں کی زمین ہو یا اعلٰی معیار کے منصوبوں کا انتظام، اِس شعبے سے منسلک پروفیشنل خواتین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تبدیلی کا تعلق شہ سرخیوں سے کم جبکہ روز مرہ کی حقیقیوں سے زیادہ ہے۔۔۔ یعنی ٹیمیں کس طرح مِل جُل کر کام کرتی ہیں، یکجا ہو کر فیصلے کرتے ہیں اور کام کی جگہوں کو تعمیر کرتی ہیں۔
سعودی عرب میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد میں کافی تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کی شرحِ تناسب سنہ 2017 میں تقریباً 17 فیصد سے بڑھ کر حالیہ برسوں میں 35 فیصد تک پہچ گئی ہے۔
یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ سعودی وژن 2030 کے تحت ہونے والی وسیع اصلاحات کی وجہ سے تعمیرات، انجینیئرنگ اور پروجیکٹ مینجمنٹ سمیت دیگر کئی شعبوں میں بھی ملازمتوں کے مواقع بڑھے ہیں۔
سیوگی گل گوڈے سعودی عرب میں ’ورسیٹائل انٹرنیشنل‘ میں جواہرات کے شعبے میں کنسلٹنٹ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’آئیں اور دیکھیں: یہاں تبدیلی سب سے زیادہ واضح ہے۔‘
اِن کے کام کا تعلق کانوں سے لائے گئے پتھروں اور تعمیراتی شعبے کے بڑے بڑے منصوبوں میں کام کرنے سے ہے جس میں جچی تُلی تکنیکی مہارت اور ہر وقت کی موجودگی ضروری ہے۔
عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے سیوگی نے کہا: ’میں نے کان کنی کے انجینیئر کے طور پر تربیت حاصل کی اور مجھے یہ معلوم ہوا کہ قدرتی پتھروں کا شعبہ ایسا ہے جو منفرد ارضیاتی تنوع سے لبریز ہے۔۔۔ اس میں ڈیزائن کی بھی گنجائش ہے اور بڑی سطح پر تعمیر کی بھی۔ اِس شعبے میں آپ کا واسطہ، انجینیئرنگ کی سختیوں، جمالیاتی فیصلوں کی بصیرت اور نقل و حمل کے مسائل کو حل کرنے جیسے معاملات سے پڑتا ہے۔‘

مختلف شعبوں میں سعودی خواتین اپنا نام بنا رہی ہیں (فوٹو: عرب نیوز)

سیوگی کو بہر صورت کام کی جگہ پر موجود ہونا پڑتا ہے اور اُن کے کام کی نوعیت ٹیکنیکل ہے۔
میرے عام سے دن کا آغاز کان پر جانے سے ہو سکتا ہے جہاں مجھے پتھروں کے بلاکس کے درمیان میں سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے جہاں میرے دائیں بائیں کان سے نکالے گئے مختلف صورتوں اور مختلف النوع کے پتھر ہی پتھر ہوتے ہیں۔
اُن کا اپنا کردار، کام کے مختلف شعبوں کو ایک جگہ لانا ہوتا ہے جس کے لیے ٹیموں کے درمیان گہرے رابطے کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔
شروع شروع میں جب اُنھوں نے کیریئر کا آغاز کیا تو کافی چھان بین ہوتی تھی۔
اُنھوں نے بتایا کہ ’پتھروں کی کانوں یا کارخانوں میں خـاتون ہوتے ہوئے کام کرنے کا مطلب یہ تھا کہ آپ سب کی توجہ کا مرکز ہیں۔ اِس لیے کبھی کبھی ہچکچاہٹ بھی ہوتی تھی۔لیکن جب اعلٰی معیار کے نتائج برآمد ہونے لگے تو تجسس، اعتماد میں بدل گیا۔ ایسی وسیع تبدیلی اب پوری صنعت کا نمایاں پہلو بن چکی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’آج حالات بہت مختلف ہو چکے ہیں۔ سٹیک ہولڈرز اب میری مہارت کو مانتے ہیں اور میری رہنمائی پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ سب ایک مضبوط تعاون اور بڑھتے ہوئے پروفیشنل اعتماد کا اشارہ ہے۔‘
سیوگی کہتی ہیں کہ ’اب مجھے کانوں اور کارخانوں میں بڑی تعداد میں خواتین نظر آتی ہیں جن میں کوئی فنِ تعمیر میں کامل ہنر رکھتی ہے تو کوئی ڈیزائن میں مہارت رکھتی ہے۔خواتین انجینیئر بھی ہیں اور پوری صنعت میں اُن کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ خواتین اُن ایریاز میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں آ رہی ہیں جو انفراسٹرکچر سے لے کر سٹرکچرل میدان تک پھیلے ہوئے ہیں۔‘

وژن 2030 کے تحت انجینیئرنگ سمیت دیگر کئی شعبوں میں بھی ملازمتوں کے مواقع بڑھے ہیں (فوٹو: اردو نیوز)

ریچل جونز سعودی عرب میں جے ایل ایل میں خصوصی خدمات کے شعبے کی سربراہ ہیں اور دو دہائیوں سے پراپرٹی اور تعمیرات کے کام سے وابستہ ہیں۔ اُن کے خیالات بھی کم و بیش اِسی طرح کے ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’ایسی صنعت میں کام کرنا جہاں ہمیشہ مرد حاوی رہے ہیں، صرف چیلنجز سے ہی بھرپور نہیں بلکہ یہاں سیکھنے کے بھی اہم مواقع ہیں۔ اُن کے مطابق تکنیکی مہارت اور بھرپور تیاری سے آپ پر اعتماد بڑھتا جاتا ہے۔‘
جونز ’سعودی وژن 2030‘ کے تحت کی جانے والی وسیع تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ وژن، تبدیلی کے لیے کلیدی محرک ہے اور بڑے بڑے منصوبوں میں کام کے متنوع موقعے پیدا ہو رہے ہیں۔ مملکت میں جاری بنیادی تبدیلیوں کے عمل سے خواتین کے لیے کئی شعبوں میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے ہیں جن میں تعمیراتی اور انجینیئرنگ کے شعبے خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔‘
جونز کہتی ہیں اگرچہ یہاں ترقی کے مواقع ہیں لیکن اِن شعبوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کی بڑی وجہ پالیسی اور ضرورت کا پیدا ہونا ہے کیونکہ مملکت بھر میں بڑے منصوبوں میں وسیع تر اور زیادہ متنوع ٹیلنٹ بہت ضروری ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب میں پائپ لائن کی تعمیر جیسے میگا پروجیکٹس، جن میں ایک درعیہ میں، دوسرا بحیرۂ احمر میں تعمیر سے متعلق ہے جبکہ تیسرا القدیہ سے تعلق رکھتا ہے، ہر سطح پر خواتین اور مردوں کے لیے ٹیلنٹ کی مانگ میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

حالیہ برسوں میں کام کی جگہوں پر خواتین کی شرکت 35 فیصد تک پہچ گئی ہے (فوٹو: ٹرینڈ ایکس)

مھا المطلق ’بیورو بین‘ کی بانی ہیں اور کہتی ہیں کہ سعودی عرب کے تعمیرات سے متعلق ماحول کو نئی جہت دینے میں خواتین کا کردار صرف شرکت تک محدود نہیں بلکہ خواتین اِس کی تشکیل پر بھرپور انداز سے اثر انداز ہو رہی ہیں۔
اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی خاتون کسی پروجیکٹ پر موجود ہے یا نہیں۔ فرق اِس سے پڑتا ہے کہ خواتین کی پوزیشن کیا ہے اور منصوبوں کی تشکیل میں اُن کی شمولیت کتنی ہے۔
مھا کے بقول مختلف صنعتوں سے وابستہ شعبوں میں فیصلہ سازی میں وسیع تبدیلی کی اہیمت بہت زیادہ ہے۔
اب ہم حکمتِ عملی کے عین مرکز میں براجمان ہیں جو اِس بات کا جواب ہے کہ تبدیلیاں کیوں ہو رہی ہیں۔ پھر ہم غور و فکر سے کام لیتے ہیں جو یہ واضح کرتا ہے کہ سوچنے والے کون ہیں اور ہم ڈیزائن کے شعبوں کو تشکیل دیتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ کیا کیا ہو رہا ہے۔
المطلق سٹیک ہولڈرز کو یکجا کر رہی ہیں تاکہ ٹیمیں الگ الگ نہیں بلکہ مِل جُل کر ایک مشرک مقصد اور نتیجے کے لیے کام کریں۔

سعودی عرب میں کام کی جگہوں پر خواتین کی نمائندگی میں اضافہ ہوا ہے (فوٹو: جنرل الیکٹرک)

المطلق کہتی ہیں ’سعودی خواتین پوری صنعت میں کئی کرداروں میں سامنے آ رہی ہیں اور یہ سب کچھ ہمیں دکھائی دے رہا ہے اور کام کے ایکوسسٹم کو توانا و مضبوط بنا رہا ہے۔ ہم مردوں کی جگہ نہیں لے رہے بلکہ مرد حضرات جو کچھ کر رہے ہیں ہم اُسے مزید بہتر بنانے کے لیے ہیں۔‘
مملکت میں اِس قسم کی تبدیلیوں کو تعلیم کی مختلف سطحوں سے بھی معاونت مل رہی ہے۔ اب زیادہ سے زیادہ خواتین انجینیئرنگ، آرکیٹیکچر اور تعمیر سے متعلق شعبوں میں گریجوایشن کر رہی ہیں۔ چنانچہ یہ خواتین اُن شعبوں میں تیزی سے آ رہی ہیں جہاں ڈیجیٹل آلات، اور سائٹ سے دور رہتے ہوئے (ریموٹ ورکنگ) کام کیا جا سکتا ہے اور نئے منصوبوں کے ماڈل بھی مارکیٹ میں آ رہے ہیں۔
جونز کہتی ہیں ’نوجوان سعودی، خواہ مرد ہوں یا خواتین، ایک نئے نقطۂ نگاہ کے ساتھ اِن شعبوں میں داخل ہو رہے ہیں جہاں کیریئر میں ترقی کے مواقع مساوی ہیں‘۔
سیوگی کہتی ہیں ’جو بھی اِس میدان میں آنا چاہ رہا ہے اِس کے لیے پیغام سیدھا سا ہے: جھجکیں مت۔ تعمیر اور انجینیئرنگ کے شعبے تجسس، نظم و ضبط اور عملی مہارتوں کو ہمیشہ ہی سراہتے ہیں اور ہمیشہ نوازتے ہیں۔‘

شیئر: