Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ہر سال 70 لاکھ اموات‘، فضائی آلودگی انسان کو کن مہلک بیماریوں کا شکار کر رہی ہے؟

فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے زیادہ ٹریفک والے علاقوں سے دُور رہنے کی کوشش کریں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
شہروں پر چھائی ہوئی سموگ سے گھروں کے اندر موجود دھوئیں تک، فضائی آلودگی پوری دنیا میں انسان کی صحت اور ماحول کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق آلودہ ہوا میں موجود باریک ذرات کے باعث ہر سال قریباً 70 لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ 
یہ آلودگی فالج، دل کی بیماریوں، پھیپھڑوں کے کینسر، سانس کے انفیکشن اور دمے ایسی مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔یہ نزلہ، زکام، کھانسی، اور سانس کی نالیوں میں جلن بھی پیدا کرتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی آلودہ ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہے۔ تیل، کوئلہ اور گیس ایسے فاسل فیولز کا جلنا، صنعتی اخراج اور گاڑیوں کا دھواں اس آلودگی کی بڑی وجوہات ہیں۔ 
اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر اور گھروں میں ٹھوس ایندھن کا استعمال بھی فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع ہیں۔
گھروں کے اندر فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع میں تمباکو کا دھواں اور ٹھوس ایندھن سے چلنے والے غیر مؤثر اور رسنے والے چولہوں کا دُھواں شامل ہے۔
فضائی آلودگی کے اہم اجزاء میں کاربن مونوآکسائیڈ، اوزون، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور سلفر ڈائی آکسائیڈ شامل ہیں۔ باہر کی ہوا کی آلودگی اور گھروں کے اندر کی آلودگی دونوں ہی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے، جن میں پالیسی سازوں اور عوام کو آلودگی کے قابلِ قبول معیار اور اس کے صحت پر اثرات سے آگاہ کرنا اور فضائی معیار کی نگرانی کرنا شامل ہیں۔
تیزی سے بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی معیشت اور انسانوں کے معیارِ زندگی پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔
کم عمر بچے، حاملہ خواتین اور بزرگ افراد فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ فضائی آلودگی بچوں اور بڑوں میں صحت کے قلیل المدت اور طویل المدت دونوں طرح کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
اس کے علاوہ جینیاتی عوامل، دیگر بیماریوں کی موجودگی، غذائیت اور سماجی و معاشی حالات بھی اس بات پر اثرانداز ہوتے ہیں کہ کوئی شخص فضائی آلودگی سے کتنا متاثر ہوگا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق چھوٹے بچے فضائی آلودگی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

فضائی آلودگی سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
فضائی آلودگی سے بچنے اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے عالمی ادارہ صحت کی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔ 
صاف سُتھری ٹرانسپورٹ، توانائی کی بچت والے مکانات، صنعتوں اور بجلی گھروں میں بہتر ایندھن کا استعمال اور کچرے کو بہتر انداز سے ٹھکانے لگا کر فضائی آلودگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔
جب آلودگی زیادہ ہو تو گھروں کے اندر رہنے کو ترجیح دیں، ایئر پیوریفائر استعمال کریں اور زیادہ ٹریفک والے علاقوں سے دُور رہنے کی کوشش کریں۔
مصروف سڑکوں یا صنعتی علاقوں کے قریب چلنے پھرنے یا ورزش کرنے سے گریز کریں تاکہ گاڑیوں کے دُھوئیں سے براہِ راست متاثر نہ ہوں۔
گھروں کے اندر آلودگی کو کم کرنے کے لیے تمباکو نوشی سے پرہیز کریں، کیمیائی صفائی کرنے والی اشیاء کا استعمال کم کریں اور کھانا پکاتے وقت مناسب وینٹیلیشن کو یقینی بنائیں۔
آپ پیدل چل کر یا سائیکل استعمال کر کے اور ذاتی گاڑی کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کر کے فضائی آلودگی کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔
گھروں کے اندر موم بتیاں، اگربتی اور ایروسول سپرے کا استعمال کم سے کم کریں کیونکہ یہ اشیا ہوا کو آلودہ کرتی ہیں۔
پتے، لکڑی یا کچرا جلانے سے گریز کریں کیونکہ ان اشیا کے جلنے سے فضا میں باریک ذرات کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

شیئر: