بلوچستان: مائننگ کمپنی کے سات ملازمین اغوا، بولان میں گیس پائپ لائن دھماکے سے تباہ
سوئی سدرن گیس کمپنی کے ترجمان کے مطابق شکار پور سے کوئٹہ جانے والی گیس پائپ لائن کے اسمبلی والو کو دھماکے سے تباہ کیا گیا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بلوچستان کے ضلع سوراب میں گاڑی پر فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ چاغی میں نجی مائننگ کمپنی کے سات ملازمین کو اغوا کرلیا گیا جبکہ بولان میں گیس پائپ لائن اور نصیرآباد میں بجلی کے ٹاور کو دھماکے سے اڑادیا گیا۔
پولیس کے مطابق بدھ کو سوراب میں کوئٹہ کو پنجگور سے ملانے والی قومی شاہراہ پر جوری کراس کے مقام پر نامعلوم مسلح افراد نے ایک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا۔ نہ رکنے پر مسلح افراد نے فائرنگ کردی جس سے گاڑی میں سوار عبدالوحید نامی شخص ہلاک ہوگیا، تاہم ڈرائیور نے گاڑی کو بھگا کر پولیس تھانے تک پہنچایا۔ گاڑی تربت سے کوئٹہ جارہی تھی۔ ڈرائیور نے پولیس کو بیان دیا کہ حملہ آوروں کی تعداد چھ سے آٹھ تھی۔
سوراب سے ملحقہ قلات اور خضدار کے اضلاع میں بھی مسلح افراد کی جانب سے قومی شاہراہوں سے گزرنے والی سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر حملے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں تاہم سرکاری طور پر ان حملوں سے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا۔
دوسری جانب چاغی سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور ماہیان کور میں واقع ایک نجی مائننگ کمپنی کی سائٹ پر موٹر سائیکل سوار نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔
پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر واقعہ کی تصدیق کی اور بتایا کہ مسلح افراد نے وہاں موجود عملے کو یرغمال بناکر نامعلوم مقام کی طرف فرار ہوگئے جبکہ جاتے ہوئے اپنے ساتھ دو گاڑیاں، ایک موٹر سائیکل لوڈر، بیس سے زائد سولر پلیٹس، چار ہزار لیٹر سے زائد پٹرول اور ڈیزل بھی لے گئے۔
مغویوں میں تین افراد ضیاء الدین، شاہ سلیم اور سعید احمد کا تعلق چاغی جبکہ چار ملازمین وجاہت حسین، واجد، شاہد اور صابر کا تعلق گلگت بلتستان سے بتایا جاتا ہے۔
پولیس افسر کے مطابق کمپنی کی جانب سے واقعہ کی پولیس کو بروقت اطلاع نہیں دی گئی۔ پولیس کو اپنے ذرائع سے واقعہ کی اطلاع ملی جس کے بعد واقعہ کی معلومات حاصل کرکے مزید تحقیقات اور مغویوں کی تلاش شروع کردی گئی۔
چاغی جو پاکستان کے مغربی سرے پر ایران اور افغانستان کے درمیان واقع ہے، دنیا کے ان خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں تانبے اور سونے سمیت قیمتی معدنیات کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ اسی خطے میں ریکوڈک اور سینڈک جیسے بڑے منصوبے واقع ہیں۔ حالیہ مہینوں میں چاغی میں امن وامان کی صورتحال خراب اور عسکریت پسندوں کی جانب سے معدنی منصوبوں اور معدنیات لے جانے والی گاڑیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اپریل 2026 میں ایک مائننگ سائٹ پر حملے میں غیر ملکی ماہر سمیت دس ملازمین ہلاک ہوئے تھے جبکہ ایک ترک باشندہ اغوا ہوا تھا جو دو مہینے بعد بازیاب ہوا۔ مئی میں سترہ ملازمین اغوا اور پھر بازیاب ہوئے۔
ادھر ضلع کچھی( بولان) کے علاقے گوکرت کے قریب بدھ کی شام کو نامعلوم مسلح افراد نے اٹھارہ انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو بارودی مواد سے اڑا دیا۔
سوئی سدرن گیس کمپنی کے ترجمان کے مطابق شکار پور سے کوئٹہ جانے والی گیس پائپ لائن کے اسمبلی والو کو دھماکے سے تباہ کیا گیا جس سے کولپور، مچھ، مستونگ، قلات، پشین، زیارت اور کوئٹہ کے کچھ علاقوں کو گیس کی فراہمی معطل ہوگئی۔
ترجمان کے مطابق پائپ لائن کی مرمت کا کام سکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد کیا جائے گا۔
اسی طرح نصیرآباد کے علاقے چھتر میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب نامعلوم افراد نے اوچ پاور پلانٹ سے سندھ جانے والی مین ٹرانسمیشن لائن کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جس سے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ پولیس کے مطابق متاثرہ ٹاور کے ساتھ نصب مزید ایک کلو بارودی مواد برآمد کرکے ناکارہ بنا دیا گیا۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں اس علاقے میں بجلی کی تنصیبات پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے