Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نجدی ورثے نے نئے صحرائی ریزوٹ امان سمر کے ڈیزائن کو کیسے متاثر کیا؟

یہ پروجیکٹ اپنی سیٹنگ سے ہی اپنے حسن کو چرا لیتا ہے (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب کی شاندار مہمان نوازی میں نیا اضافہ دیریہ میں وادی صفار کے خوبصورت مقام پر امان سمر ریزوٹ کا قیام ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اس ریزوٹ کو مشہور بیلجیئن ماہرِ تعمیرات جین مشل گیتھی نے ڈینسٹن نامی فرم کے ساتھ مل کر بنایا ہے جس سے روایت میں ڈوبی ہوئی نئی نجدی فن تعمیر کی عکاسی ہوتی ہے۔
گیتھی نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے اپنا کام نجدی فن تعمیر کے بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع کیا جن میں دیواروں کی مضبوطی، رنگوں کا انتخاب، نقش و نگار اور صحنوں کی ترتیب شامل ہے۔‘
تاریخی شکل کو ہو بہو بنانے کے بجائے ٹیم نے اس بات پر توجہ دی کہ کیسے ان عناصر کو نئے دور میں ڈھالا جا سکتا ہے۔
گیتھی کہتے ہیں کہ ’سکون اور آسانی سب سے اہم ہے لہذا ہم نے بہت دھیان سے روایتی جیومیٹری کو اپنایا تاکہ کھڑکیاں اور دروازے قدرتی محسوس ہوں۔‘
روایت اور جدت کا توازن اس پروجیکٹ کے ہر عنصر میں پایا جاتا ہے۔ ایک ایسے دور میں جہاں بڑی اور نمایاں عمارتیں عیش و آرام کی پہچان سمجھی جاتی ہیں وہیں امان سمر نے دانستہ طور پر بالکل مختلف فلسفہ اپنایا ہے۔

روایت اور جدت کا توازن اس پروجیکٹ کے ہر عنصر میں پایا جاتا ہے (فوٹو: عرب نیوز)

گیتھی کا مزید کہنا تھا کہ ’نجدی فن تعمیر قدرتی طور پر باوقار ہے اور فنکشن، پرائیویسی اور ماحول کے حساب سے ڈھلنے والا ہے۔‘
یہ پروجیکٹ اپنی سیٹنگ سے ہی اپنے حسن کو چرا لیتا ہے۔ ڈھلوان کے ساتھ بنا ہوا یہ ریزوٹ وادی صفار کی چوٹیوں سے براہ راست باتیں کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے بہت دھیان سے بلڈنگ کو ڈھلوان کے ساتھ بنایا ہے اور اس جگہ کے قدرتی حسن کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ اس سے ماہر تعمیرات کو خوبصورت نظاروں کا حصہ بننے کا موقع ملتا ہے۔‘
اس ریزوٹ کے ماسٹر پلان میں پرانی گلیوں، عوامی مقامات اور صحن والے گھروں جیسے روایتی شہری عناصر کو بین الاقوامی صارفین کے لیے دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے۔

گیتھی کہتے ہیں کہ سکون اور آسانی سب سے اہم ہے (فوٹو: عرب نیوز)

امان سمر کی تعمیر سعودی عرب کے ٹورازم سیکٹر کے لیے جاری اہم موڑ پر ہوئی ہے جب مملکت اپنے وژن 2030 کے تحت شاہانہ پیش کش کو بڑھا رہی ہے۔
گیتھی کہتے ہیں کہ ’سب سے متاثر کن بات مملکت کے عظیم فن تمعیراتی ورثے سے جڑنے کا موقع ملنا تھا۔‘ 

 

شیئر: