افزائشِ نسل پروگرام: 10 ہزار جانروں اور پرندوں کو سعودی ریزروز میں منتقل کیا جا چکا
سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف نے اعلان کیا ہے کہ ’مقامی طور پر معدومیت کے خطرے سے دوچار جانوروں کی افزائشِ نسل پروگرام کے تحت اب تک 10 ہزار سے زیادہ مختلف اقسام کے جانوروں اور پرندوں کو محفوظ جنگلات میں منتقل کیا جاچکا ہے۔‘
یہ اقدام نیشنل سینٹر کی جانب سے جنگلی حیات کی ترقی، ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا گزشتہ برسوں کے دوران 80 اقسام کے چرند و پرند، رینگنے والے جانوروں کو محفوظ جنگلات میں چھوڑا گیا جن میں مختلف اقسام کے ہرن، ماونٹین آئی بیکس، غزال، عربین اوریکس، گوہ جبکہ پرندوں میں مخصوص قسم کے تلور، شترمرغ و دیگر پرندے شامل ہیں۔
نیشنل سینٹر کے سی ای او ڈاکٹر محمد علی قربان نے بتایا ’افزائش نسل کے لیے جن جانوروں کو مملکت کے مختلف علاقوں میں موجود محفوظ جنگلات میں منتقل کیا گیا جن کی تعداد 60 سے زائد ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’جنگلی حیات کی ان کی قدرتی ہناہ گاہوں میں واپسی سے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحولیاتی معیار کو بہتر بنانے میں مدد گلے گی۔‘

نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف جنگلی حیات کے فروغ، معدومیت سے دوچار جانورں کے تحفظ، ان کی افزائش نسل، سائنسی بینادوں پر تحقیق کے لیے اپنے سٹرٹیجک منصوبوں پر عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس کا مقصد سعودی گرین انیشیٹیو، سعودی وژن 2030 کے اہداف، نیشنل انوائرمینٹل سٹریٹیجی کے فروغ، جنگلی حیات، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں کردار ادا کرنا ہے۔
