Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران میں کئی ماہ کے بلیک آؤٹ کے بعد انٹرنیٹ کی سہولت، ’ہر کوئی یہ استطاعت نہیں رکھتا‘

جنوری میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ پہلے ہی سخت پابندیوں کا شکار تھا (فوٹو: اے ایف پی)
کئی ماہ تک مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے دوران تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے بعد ایرانی ٹیک ورکر امیر حسن بالآخر دوبارہ آن لائن ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مگر یہ سہولت صرف مراعات یافتہ طبقے کے لیے ہے جس نے عوامی سطح پر شدید تنقید کو جنم دیا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 39 سالہ امیر حسن جیسے لاکھوں افراد 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم رہے۔
اس بلیک آؤٹ نے آن لائن کاروباری افراد اور ورکرز کی آمدنی کو بری طرح متاثر کیا۔ لیکن جب انہیں ایک پیغام موصول ہوا کہ وہ ’پرو انٹرنیٹ‘ سسٹم خرید کر دوبارہ آن لائن ہو سکتا ہیں تو انہوں نے فوراً یہ موقع حاصل کر لیا۔
امیر حسن نے بتایا کہ ’یہ ضرورت تھی۔ مجھے مجبوراً انٹرنیٹ لینا پڑا تاکہ اپنی آمدنی کا سلسلہ جاری رکھ سکوں۔‘ انہوں نے تقریباً 11 ڈالر ادا کر کے 50 گیگا بائٹ کا ابتدائی پیکج خریدا۔
5 اپریل تک انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے اندازہ لگایا کہ جنگ کے آغاز سے جاری بلیک آؤٹ ’کسی بھی ملک میں سب سے طویل قومی سطح کا انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن‘ ہے۔ اس دوران صرف چند مقامی ویب سائٹس، بینکنگ سروسز اور حکومت کی منظور شدہ ایپس تک محدود رسائی دی گئی۔
جنوری میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ پہلے ہی سخت پابندیوں کا شکار تھا، لیکن جنگ کے بعد یہ حکومت کے کنٹرول کا ایک اور ہتھیار بن گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکام نے ایک طبقاتی نظام بنا دیا ہے جس میں وسیع رسائی صرف مخصوص گروہوں کو دی جاتی ہے۔
امیر حسن نے کہا کہ ’ایران میں انٹرنیٹ کو اس طرح درجہ بندی کرنا اچھا ماڈل نہیں ہے۔ یہ واضح طور پر پیسہ کمانے کا طریقہ ہے۔‘
صارفین کو اضافی استعمال کے لیے عام نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

اصلاح پسند اخبار شرق اور دیگر ذرائع نے اس نظام کو ’طبقاتی انٹرنیٹ‘ قرار دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اس نظام کے ذریعے امیر حسن واٹس ایپ اور ٹیلیگرام استعمال کر سکتے ہیں، لیکن انسٹاگرام، ایکس اور یوٹیوب جیسے بڑے پلیٹ فارمز اب بھی وی پی این کے بغیر دستیاب نہیں۔ دیگر صارفین نے مختلف سطح کی رسائی کی اطلاع دی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سروس سب کے لیے یکساں نہیں۔
’تیسرے درجے کا شہری‘
اس خصوصی رسائی نے سماجی دباؤ بھی پیدا کیا ہے۔ خریداروں پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ حکومت کی جیب بھر رہے ہیں۔ امیر حسن نے کہا کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ تم نے ایک ایسی حکومت کو پیسے دیے جو یہ سہولت غیرموزوں طریقے سے دیتی ہے۔‘
تاہم یہ سہولت ہر پیشہ ور کو نہیں دی گئی۔ تہران یونیورسٹی کے لسانیات کے پروفیسر بہروز محمودی بخیاری نے کہا کہ انہیں ایسا کوئی پیغام موصول نہیں ہوا۔ وہ صرف یونیورسٹی کیمپس میں انٹرنیٹ استعمال کر سکتے ہیں۔ ’جیسے ہی آپ یونیورسٹی سے باہر نکلتے ہیں، آپ دوبارہ تیسرے درجے کے شہری بن جاتے ہیں، اور انٹرنیٹ تک رسائی نہیں رہتی۔‘
اصلاح پسند اخبار شرق اور دیگر ذرائع نے اس نظام کو ’طبقاتی انٹرنیٹ‘ قرار دیا ہے، اور تنقید کی ہے کہ انٹرنیٹ کو عوامی حق سے ایک مراعات یافتہ سہولت میں بدل دیا گیا ہے۔
حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ جنگ کے سائے کے ختم ہوتے ہی انٹرنیٹ کی صورتحال معمول پر آ جائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’دشمنوں‘ یعنی اسرائیل اور امریکہ نے ایسی سکیورٹی صورتحال پیدا کی جس نے حکومت کو بلیک آؤٹ پر مجبور کیا۔

کاوہ نے کہا کہ ’کچھ لوگوں کو تھوڑی سی آزادی دینا، دس گنا زیادہ قیمت پر، میرے لیے قابلِ قبول نہیں۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

ایران میں صارفین پہلے ہی وی پی این پر انحصار کرتے رہے ہیں، لیکن ’پرو انٹرنیٹ‘ سروس نے مالی بوجھ بڑھا دیا ہے۔ جنگ کے بعد ایران کی معیشت مزید بگڑ گئی، افراطِ زر 50 فیصد سے تجاوز کر گیا اور ریال کی قدر ڈالر کے مقابلے میں گر گئی۔
34 سالہ گرافک ڈیزائنر مہدی نے کہا کہ ’میرے خیال میں دیے گئے ڈیٹا کی مقدار قیمت کے لحاظ سے صارفین کے لیے فائدہ مند نہیں۔‘ انہوں نے پھر بھی کام کے لیے سروس خریدی، مگر مانا کہ ’ہر کوئی یہ پیکج خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔‘
38 سالہ بصری فنکار کاوہ نے بھی ’پرو انٹرنیٹ‘ پلان کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی وی پی این کے لیے الگ ادائیگی کرتے ہیں اور ’کچھ لوگوں کو تھوڑی سی آزادی دینا، دس گنا زیادہ قیمت پر، میرے لیے قابلِ قبول نہیں۔‘

 

شیئر: