Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض میں مقیم فلپائنی نرس ڈھائی لاکھ ڈالر کے عالمی ایوارڈ کے فائنل میں پہنچ گئیں

گلوبل نرسنگ ایوارڈ میں ڈھائی لاکھ ڈالر کا انعام ملے گا (فوٹو: عرب نیوز)
ریاض میں مقیم فلپائنی نرس ڈینا سیوِلا گلوبل نرسنگ ایوارڈ کے ٹاپ 10 فائنلسٹ میں پہنچ گئی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق گلوبل نرسنگ ایوارڈ میں ڈھائی لاکھ ڈالر کا انعام ملے گا اور اس میں ایک لاکھ 34 ہزار امیدواروں نے حصہ لیا جن میں ڈینا سیوِلا ٹاپ 10 فائنلسٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں۔
پانچویں ایسٹر گارڈینز گلوبل نرسنگ ایوارڈ کے فاتح کا اعلان رواں برس کے آخر میں انڈیا میں ایک تقریب کے دوران کیا جائے گا۔
ایسٹر کے مطابق سعودی عرب کی نمائندگی کرنے والی سیوِلا مملکت میں کام کرنے والے ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کے معیار اور مریضوں کی دیکھ بھال، جدت اور کمیونٹی ہیلتھ میں اُن کے اثر انداز ہونے کی عکاسی کرتی ہیں۔
سیوِلا ریاض میں کنگ سعود یونیورسٹی میڈیکل سٹی اور کنگ خالد ہوسپٹل کے پیریٹونیل ڈائیلائسز کے شعبے میں ہیڈ نرس کے طور پر کام کرتی ہیں۔
انہیں اس ایوارڈ کے لیے گھر پر پیریٹونیل ڈائیلائسز کروانے والے مریضوں کو آگاہی فراہم کرنے اور پیچیدگیاں کم کرنے کے لیے چنا گیا ہے۔
ایسٹر کے مطابق سیوِلا کے یونٹ نے پیریٹونائٹس کا 0.07 فیصد ریٹ حاصل کیا ہے جبکہ عالمی سطح پر یہ بینچ مارک 0.40 فیصد ہوتا ہے۔ اس وجہ سے مریضوں کے بار بار ہسپتال اور ایمرجنسی روم میں آنے میں کمی ہوئی ہے۔
اُن کا کام پییچیدہ بیماریوں میں دیکھ بھال کرنے میں نرس کی قیادت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے سیوِلا کہتی ہیں کہ ’مجھے معلوم ہے کہ یہ پروفیشنل اور ذاتی کامیابی ہے لیکن اس کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھتی ہے۔ میں ڈائیلاسز کے حوالے سے شعور کو فروغ دینا چاہتی ہوں۔ خاص طور پر غریب مریضوں کو سپورٹ کرنا چاہتی ہوں۔‘

سیوِلا نے ریاض کے ہسپتالوں میں سٹاف نرس کے طور پر کام کیا (فوٹو: دی گلوبل فلیپینو میگزین)

انہوں نے مزید بتایا اُن کا مشن ہے کہ اس بات کو فروغ دیا جائے کہ گردوں کی بیماری کے ساتھ بھی زندگی بامقصد اور خوبصورت ہو سکتی ہے۔ وہ مریض کے بیک گراؤنڈ سے قطع نظر ہوم ڈائیلاسز کے فروغ کے لیے کام کر چکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہاں سعودی عرب میں نئے سٹاف کے لیے عربی کورس سیکھنا لازمی ہے کیونکہ آپ جتنی عوام کی زبان بولیں گے اتنا زیادہ آپ سمجھ سکیں گے اور آپ اُن کے علاج کے لیے نرمی اور اچھا سلوک دکھا سکیں گے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے اُن کی مسلسل لگن اُن کے فلپائنی بیک گراؤنڈ کی وجہ سے ہے۔ وہ اپنے کیریئر کے آغاز میں فلپائن میں چھ سال کام کر چکی ہیں جس کے بعد وہ مملکت آگئیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اسے اپنی زندگی اور کیریئر کی عظیم نعمت سمجھتی ہوں۔ میں 2011 میں پہلی مرتبہ یہاں آئی تھی۔ میں کہہ سکتی ہوں کہ میرے دل میں سعودی عرب کے لیے خاص مقام ہے کیونکہ میں مواقع، ترقی اور تجربے کے لیے ہمیشہ سعودی عرب کی ممنون رہوں گی۔‘
انہوں نے یہاں سٹاف نرس کے طور پر کام کیا جس کے بعد انہیں کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے بھیج دیا گیا اور پھر وہ ہیڈ نرس بن گئیں۔

سیوِلا کا کام پییچیدہ بیماریوں میں دیکھ بھال کرنے میں نرس کی قیادت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے (فوٹو: دی گلوبل فیلیپینو میگزین)

انہوں نے مزید بتایا کہ فلپائنی نرسیں اپنی محنت، نرم دل اور مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے پوری دنیا میں مقبول ہیں اور وہ دیکھ بھال میں بہتری، آزادی کے فروغ اور ڈائیلائسز کے مریضوں کے لیے شواہد کی بنیاد پر تحقیق کے لیے پرعزم ہیں۔
ایسٹر گارڈینز گلوبل ایوارڈ کے امیدواروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال ہونے والے چوتھے ایڈیشن میں ایک لاکھ سے زائد امیدوار شامل تھے۔

 

شیئر: