جنگ اور پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے نقصانات میں اضافہ، ایئر انڈیا کے سی ای او مستعفی
ایئر انڈیا کے پاس 191 طیاروں کا بیڑا ہے اور اس نے 500 سے زائد طیاروں کے آرڈر دے رکھے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایئر انڈیا نے منگل کو اعلان کیا کہ اس کے سی ای او کیمبل ولسن نے تقریباً چار سال اس عہدے پر رہنے کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ ایئر لائن مسلسل نقصانات اور گزشتہ سال ہونے والے ایک حادثے کے بعد بڑھتی ہوئی ریگولیٹری نگرانی کا سامنا کر رہی ہے، جس میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کیمبل ولسن کا استعفیٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب چند دن قبل ایئرلائن کے بڑے حریف انڈیگو نے ہوا بازی کے ماہر ولی والش کو اپنا نیا سی ای او مقرر کیا ہے۔
ملک کی دو بڑی ایئر لائنز مشرق وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے بحران کے باعث دباؤ میں ہیں، جس میں اندرونی آپریشنل مسائل بھی شامل ہیں۔
روئٹرز نے جنوری میں رپورٹ کیا تھا کہ ایئر انڈیا کا بورڈ کیمبل ولسن کی جگہ نئے سی ای او کی تلاش میں ہے۔ کیمبل ولسن، جو پہلے سنگاپور ایئرلائنز کے ایگزیکٹو رہ چکے ہیں، کو 2022 میں سرکاری ملکیت کے دوران زوال کا شکار ہونے والی ایئر لائن کی بہتری کے لیے لایا گیا تھا۔
ایئر انڈیا کے مطابق ولسن نے 2024 میں چیئرمین این چندر شیکرن کو اس سال عہدہ چھوڑنے کے اپنے ارادے سے آگاہ کر دیا تھا، اور وہ اس وقت تک اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے جب تک ان کا جانشین مقرر نہیں ہو جاتا۔
بیان کے مطابق ایئر انڈیا کے بورڈ نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو آئندہ مہینوں میں نئے سی ای او کا انتخاب کرے گی۔ ولسن کی مدت ملازمت 2027 میں ختم ہونا تھی۔
چندر شیکرن، جو ٹاٹا گروپ کے بھی چیئرمین ہیں، نے کہا کہ ایئر انڈیا ٹیم نے متعدد بیرونی چیلنجز کا سامنا کیا، جن میں کووڈ کے بعد سپلائی چین کے مسائل، نئے طیاروں کی فراہمی میں تاخیر، اور جغرافیائی و سیاسی دباؤ شامل ہیں۔
ایئر انڈیا میں سنگاپور ایئرلائنز بھی ایک بڑا شیئر ہولڈر ہے، جس کے پاس تقریباً 25 فیصد حصص ہیں۔
’مشکل حالات‘
انڈیا کی دوسری بڑی ایئر لائن کی قیادت سنبھالنے کے بعد ولسن نے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں بہتری اور سپلائی چین کے مسائل کے باوجود طیاروں کی مرمت اور اپ گریڈیشن کی نگرانی کی۔
سنگاپور میں مقیم ہوا بازی کے تجزیہ کار برینڈن سوبی نے کہا، ’گزشتہ چار سالوں میں کیمبل نے انتہائی مشکل حالات میں اچھا کام کیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ایئر انڈیا کی تبدیلی کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے درست امیدوار تلاش کرنا آسان نہیں ہوگا، اور ٹاٹا گروپ پر خاص طور پر انڈیگو کی حالیہ تقرری کے بعد دباؤ ہوگا کہ وہ درست فیصلہ کرے۔
گزشتہ ایک سال میں ایئر انڈیا کو سیفٹی کے ایشوز پر ریگولیٹرز کی جانب سے تنبیہ کا سامنا بھی کرنا پڑا، جن میں بغیر ایئر وردی نس سرٹیفکیٹ کے آٹھ بار پرواز کرنا اور ایمرجنسی آلات کی جانچ کے بغیر طیارے چلانا شامل ہے۔
دسمبر میں ایئر انڈیا نے اعتراف کیا تھا کہ ’عملی نظم و ضبط، رابطہ کاری اور ضابطہ کار کی پابندی میں فوری بہتری کی ضرورت ہے۔‘
ایئر انڈیا کے پاس 191 طیاروں کا بیڑا ہے اور اس نے 500 سے زائد طیاروں کے آرڈر دے رکھے ہیں۔
2022 میں ٹاٹا گروپ کی جانب سے خریدے جانے کے بعد سے کمپنی مسلسل خسارے میں ہے، جبکہ گزشتہ سال پاکستان کی جانب سے انڈین ایئر لائنز پر فضائی حدود کی پابندی کے بعد مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
ایئر انڈیا اور اس کی کم لاگت والی ایئر لائن ایئر انڈیا ایکسپریس نے مالی سال 2024-2025 میں مجموعی طور پر 98.08 ارب روپے (1.05 ارب ڈالر) کا نقصان رپورٹ کیا۔
