چینی صدر کے ساتھ بات چیت ’انتہائی مثبت‘ رہی: صدر ٹرمپ کا خطاب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کو ’انتہائی مثبت‘ قرار دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار دورۂ چین کے دوران بیجنگ میں چینی صدر کی جانب سے جمعرات کو دی گئی ضیافت سے خطاب کے دوران کیا۔
اس عشائیے میں دونوں ممالک کے سرکردہ رہنما، اور ایلون مسک اور ٹِم کُک جیسی امریکی کاروباری شخصیات بھی شریک تھیں۔
صدر شی اور صدر ٹرمپ نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے اختتام پر تیانمن سکوائر کے قریب واقع ’گریٹ ہال آف دی پیپل‘ میں عظیم الشان ضیافت میں شرکت کی۔
اس ضیافت کا اہتمام چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کے وفد کے اعزاز میں کیا تھا۔
قائدین کے ہال میں پہنچنے سے قبل براہِ راست نشر کیے گئے مناظر میں ایک پُرجوش ماحول دکھایا گیا، جس میں چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کے کئی اعلٰی عہدیداروں کو ٹرمپ انتظامیہ کے ارکان کے ساتھ گپ شپ کرتے اور مسکراہٹوں کا تبادلہ کرتے دیکھا گیا۔
اس موقعے پر صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لیوآن کو 24 ستمبر کو وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت بھی دی۔
روایتی سُرخ لباس میں ملبوس ویٹر خوب صورتی سے سجائی گئی میزوں کے درمیان مصروف دکھائی دیے، جہاں مہمان مختلف کھانوں سے لطف اندوز ہوئے۔
تاہم اس خوش گوار ماحول کے باوجود دنیا کی دو بڑی معیشتوں، امریکہ اور چین کے درمیان کئی بڑے اختلافات موجود ہیں۔
امریکہ اور چین کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی اور تائیوان جیسے معاملات پر طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں۔ چین، تائیوان پر اپنا دعویٰ کرتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو گئے، کیونکہ ایران اپنے تیل کی فروخت کے لیے چین پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔
ضیافت سے خطاب کے دوران صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین کی ترقی ’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے‘ کے نعرے کے ساتھ مل کر آگے بڑھ سکتی ہے۔ اُن کا یہ اشارہ صدر ٹرمپ کے مشہور سیاسی نعرے کی جانب تھا۔
تاہم شی جن پنگ نے اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار بھی کیا کہ اگر امریکہ نے تائیوان کے معاملے پر غلط قدم اٹھایا تو دونوں ممالک ’تصادم‘ کی طرف جا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کی شام بیجنگ پہنچنے کے بعد سے تائیوان کے حساس مسئلے پر کوئی بات نہیں کی اور شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد اس حوالے سے صحافیوں کے متعدد سوالات کو نظرانداز کیا۔
جمعے کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ’چائے کے کپ‘ پر مزید بات چیت بھی ہو گی جس کے بعد صدر ٹرمپ اپنا تین روزہ دورہ مکمل کر کے ’ایئر فورس ون‘ کے ذریعے واپس واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے۔
