آبنائے ہُرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت پر یورپی ممالک ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں: ایرانی میڈیا
’نئے انتظام کے تحت مخصوص خدمات کی فراہمی کے لیے بحری جہازوں سے فیس وصول کی جائے گی‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایرانی سرکاری ٹیلی وی کے مطابق یورپی ممالک آبنائے ہُرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق ایران کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ایران کے سرکاری ٹی وی کے حوالے سے بتایا کہ مشرقی ایشیائی ممالک، خاص طور پر چین، جاپان اور پاکستان کے بحری جہازوں کے آبنائے ہُرمز سے گزرنے کے بعد ہمیں آج یہ اطلاع موصول ہوئی ہے۔
سرکاری ٹی وی نے مزید بتایا کہ ’یورپی ممالک نے آبنائے ہُرمز سے گزرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ساتھ بات چیت کا آغاز کردیا ہے، تاہم اس خبر میں ان ممالک کے نام نہیں بتائے گئے۔
اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا تھا کہ ’ایران نے آبنائے ہُرمز میں ایک مخصوص راستے کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت کا ایک طریقہ کار تیار کیا ہے جس کا اعلان جلد ہی کیا جائے گا۔‘
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ابراہیم عزیزی نے سنیچر کو ایک بیان میں کہا کہ ’صرف تجارتی جہاز اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک ہی اس انتظام سے فائدہ اُٹھا سکیں گے۔‘
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’اس نئے انتظام کے تحت مخصوص خدمات کی فراہمی کے لیے فیس وصول کی جائے گی۔‘
