ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ’ایران نے آبنائے ہُرمز میں ایک مخصوص راستے کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت کا ایک طریقہ کار تیار کیا ہے جس کا اعلان جلد ہی کیا جائے گا۔‘
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ابراہیم عزیزی نے سنیچر کو ایک بیان میں کہا کہ ’صرف تجارتی جہاز اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک ہی اس انتظام سے فائدہ اُٹھا سکیں گے۔‘
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’اس نئے انتظام کے تحت مخصوص خدمات کی فراہمی کے لیے فیس وصول کی جائے گی۔‘