Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا اور امارات کے توانائی اور دفاعی تعاون کے معاہدوں پر دستخط

انڈین وزارتِ خارجہ نے امارات کی جانب سے 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا ہے (فوٹو: روئٹرز)
انڈین وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ انڈیا اور متحدہ عرب امارات نے جمعہ کے روز خلیجی ملک کے دورے پر آئے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں ایک سٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے فریم ورک کی منظوری دے دی ہے۔
بیان کے مطابق، متحدہ عرب امارات اور انڈیا نے سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر اور مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی فراہمی سے متعلق معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔
اس سٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے تحت ’دونوں فریقوں نے دفاعی صنعتی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور جدت، جدید ٹیکنالوجی، تربیت، مشترکہ مشقوں، سمندری سلامتی، سائبر دفاع، محفوظ مواصلات اور معلومات کے تبادلے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔‘
گزشتہ ماہ اوپیک سے متحدہ عرب امارات کے الگ ہونے کے فیصلے کے بعد توقع ہے کہ اس کی تیل کی پیداوار بڑھے گی اور انڈیا جیسے درآمدی ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید ہلچل پیدا ہو چکی ہے جو اب یہ جنگ تیسرے مہینے میں داخل ہو گئی ہے۔
اس گزرگاہ سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس صورتِ حال نے خلیجی خطے میں نقل و حمل اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے، کیونکہ جنگ کے دوران ایران نے متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک پر بھی حملے کیے، جس کے بعد گزشتہ ماہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک نازک جنگ بندی عمل میں آئی۔

امارات اور انڈیا نے سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر اور مائع پیٹرولیم گیس کی فراہمی سے متعلق معاہدوں پر بھی دستخط کیے (فوٹو: نریندر مودی ایکس)

جنوری میں ابوظہبی اور نئی دہلی نے 3 ارب ڈالر کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت انڈیا متحدہ عرب امارات سے ایل این جی خریدے گا، جو اس کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے قیام کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے تھے۔
انڈین وزارتِ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا، اور ماضی کے معاہدوں کا حوالہ دیا جن میں گزشتہ سال این بی ڈی امارات کی جانب سے آر بی ایل بینک کے 60 فیصد حصص 3 ارب ڈالر میں خریدنا، اور ابوظہبی کی آئی ایچ سی کی جانب سے ’سمان‘ میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہیں۔

شیئر: