صدرڈونلڈ ٹرمپ اور جے ڈی وینس کے حالیہ بیانات، کیا ایران تنازع جلد حل ہو سکتا ہے؟
صدرڈونلڈ ٹرمپ اور جے ڈی وینس کے حالیہ بیانات، کیا ایران تنازع جلد حل ہو سکتا ہے؟
بدھ 20 مئی 2026 9:05
وینس نے وائٹ ہاؤس کی بریفنگ میں کہا کہ ’ہم کافی اچھی پوزیشن میں ہیں۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
دو چینی آئل ٹینکرز کے آبنائے ہرمز سے گزرنے اور امریکی صدر اور ان کے نائب کے مثبت بیانات کے بعد امیدیں بڑھ گئیں کہ امریکہ، اسرائیل کا ایران کے ساتھ تنازع جلد حل ہو سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ جنگ ’بہت جلد‘ ختم ہو جائے گی جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے تہران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کو سراہا تاکہ دشمنی ختم کرنے کے معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
وینس نے وائٹ ہاؤس کی بریفنگ میں کہا کہ ’ہم کافی اچھی پوزیشن میں ہیں۔‘
ٹرمپ نے یہ بیان ایک دن بعد دیا جب انہوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایران کی جانب سے نئے امن منصوبے کے بعد حملے دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ روک دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں آج فیصلہ کرنے سے ایک گھنٹہ دور تھا۔ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ جلد نیا حملہ کرے گا۔‘
امریکہ تقریباً تین ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ٹرمپ بار بار کہتے رہے ہیں کہ تہران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے، لیکن ساتھ ہی دھمکی بھی دیتے رہے کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو سخت حملے کیے جائیں گے۔
ٹرمپ پر اندرونِ ملک شدید سیاسی دباؤ ہے کہ وہ ایسا معاہدہ کریں جس سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکے جو تیل اور دیگر اشیاء کی عالمی سپلائی کا اہم راستہ ہے۔ امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں بلند ہیں اور کانگریسی انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ ٹرمپ کی مقبولیت گر رہی ہے۔
یہ تنازع عالمی توانائی سپلائی میں بدترین رکاوٹ کا باعث بنا، جس نے سینکڑوں ٹینکرز کو خلیج سے نکلنے سے روک دیا اور خطے میں توانائی و شپنگ سہولیات کو نقصان پہنچایا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کی تازہ امن تجویز میں تمام محاذوں پر دشمنی ختم کرنا ہے (فوٹو: روئٹرز)
وائٹ ہاؤس اور خلیج سے مثبت اشاروں کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہوئیں، برینٹ کروڈ 110.16 ڈالر فی بیرل تک گر گیا، پھر زیادہ تر نقصان پورا کر لیا۔
فوجی مذاکرات کی مشکلات کے بارے میں وینس نے کہا کہ ایران کی قیادت منقسم ہے اور ’کبھی کبھی یہ بالکل واضح نہیں ہوتا کہ ان کی مذاکراتی پوزیشن کیا ہے۔‘ امریکہ اپنی ریڈ لائنز کو واضح کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی پالیسی کا ایک مقصد خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ٹرمپ نے حملہ اس لیے روکا کیونکہ انہیں احساس ہوا کہ ایران کے خلاف کوئی بھی اقدام ’فیصلہ کن فوجی ردعمل‘ کا سامنا کرے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کی تازہ امن تجویز میں تمام محاذوں پر دشمنی ختم کرنا، ایران کے قریب امریکی افواج کا انخلا، اور امریکی-اسرائیلی حملوں سے ہونے والی تباہی کا معاوضہ شامل ہے۔ ساتھ ہی ایران نے پابندیاں ختم کرنے، منجمد فنڈز کی بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔