امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر ایک طے شدہ حملہ اس وقت مؤخر کر دیا جب تہران نے واشنگٹن کو امن کا ایک نیا منصوبہ بھیجا اور اب ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے معاہدہ طے پانے کا ’بہت اچھا امکان‘ موجود ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کی جانب سے نیا امن منصوبہ بھیجے جانے کے بعد انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت دی کہ’ہم کل ایران پر طے شدہ حملہ نہیں کریں گے، تاہم انہیں یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ مکمل اور بڑے پیمانے پر فوری کارروائی کے لیے ہر وقت تیار رہیں، اگر قابلِ قبول معاہدہ نہ ہو سکا۔‘
ایسا کوئی حملہ پہلے سے اعلان نہیں کیا گیا تھا اور روئٹرز اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ آیا ایسے حملوں کی کوئی عملی تیاریاں کی گئی تھیں یا نہیں، جو فروری کے آخر میں ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کی دوبارہ شدت کو ظاہر کرتیں۔
اس معاہدے تک پہنچنے کے دباؤ کے تحت، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، ٹرمپ پہلے بھی امید ظاہر کر چکے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ قریب ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایران کو خبردار بھی کیا تھا کہ اگر تہران معاہدہ نہ کر سکا تو اس پر شدید حملے کیے جا سکتے ہیں۔