امن تجاویز میں جنگ کے نقصانات کی تلافی اور امریکی فوج کا انخلا شامل ہے: ایران
امن تجاویز میں جنگ کے نقصانات کی تلافی اور امریکی فوج کا انخلا شامل ہے: ایران
منگل 19 مئی 2026 6:49
ایران کا مطالبہ ہے کہ اسے صرف جزوی نہیں بلکہ تمام منجمد اثاثوں تک مکمل رسائی دی جائے (فوٹو: روئٹرز)
ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے امریکہ کو دی گئی امن تجاویز میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ایران کے قریبی علاقوں سے فوج کے انخلا اور جنگ سے ہونے والے نقصان کی تلافی کے نکات شامل ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ تہران کی جانب سے پابندیاں ہٹانے، منجمد فنڈز کے اجرا اور سمندری ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبات بھی کیے گئے ہیں۔
موجودہ شرائط ان پچھلی شرائط سے قدرے مختلف ہیں جن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’گاربیج‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ تہران کی جانب سے واشنگٹن کو امن کی نئی تجاویز بھیجنے کے بعد انہوں نے ایران پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ ترک کر دیا ہے اور یہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے والے معاہدے تک پہنچنے کا ’بہت اچھا موقع‘ ہے۔
انہوں نے فوج کو یہ حکم بھی دیا کہ وہ مکمل اور بڑے پیمانے پر فوری کارروائی کے لیے ہر وقت تیار رہیں، اگر قابلِ قبول معاہدہ نہ ہو سکا۔‘
ایسے کسی حملے کا اعلان پہلے سے نہیں کیا گیا تھا اور برطانوی خبر رساں ادارہ روئٹرز اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ آیا ایسے حملوں کی کوئی عملی تیاریاں کی گئی تھیں یا نہیں جو فروری کے آخر میں ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کی شدت کو ظاہر کرتیں۔
اس معاہدے تک پہنچنے کے دباؤ کے تحت، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، ٹرمپ پہلے بھی امید ظاہر کر چکے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ قریب ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایران کو خبردار بھی کیا تھا کہ اگر تہران معاہدہ نہ کر سکا تو اس پر شدید حملے کیے جا سکتے ہیں۔
اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ حملہ مؤخر کر دیں کیونکہ ’ایک معاہدہ ہو جائے گا جو امریکہ کے لیے بھی اور مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک سمیت دیگر ممالک کے لیے بھی بہت قابلِ قبول ہوگا۔ انہوں نے زیرِ بحث معاہدے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
رپورٹرز سے بعد میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کر لے جو تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے تو امریکہ اس سے مطمئن ہوگا۔
’ایسا لگتا ہے کہ معاہدہ طے پانے کا بہت اچھا امکان ہے۔ اگر ہم یہ کام ان پر زبردست بمباری کیے بغیر کر سکیں تو میں بہت خوش ہوں گا۔‘
ایران اپنے موقف پر برقرار
ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد سرکاری میڈیا پر سخت اور چیلنجنگ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کرتا ہے کہ وہ ایران پر حملے کی صورت میں مزید’سٹریٹیجک غلطیوں یا غلط اندازوں‘ سے گریز کریں جبکہ اس نے یہ مؤقف بھی دہرایا کہ ایرانی مسلح افواج ’ماضی کی نسبت زیادہ تیار اور مضبوط‘ ہیں۔
واشنگٹن کی مبینہ لچک
ایک سینیئر ایرانی ذریعے کے مطابق امریکہ نے مبینہ طور پر بیرونِ ملک بینکوں میں منجمد ایران کے اثاثوں کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ رقم مبینہ طور پر اربوں ڈالر بنتی ہے۔
اسلام آباد میں امریکہ و ایران کے درمیان ہونے والا مذاکرات کا ایک دورے بے نتیجہ رہا تھا جبکہ دوسرا نہیں ہو پایا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کا مطالبہ ہے کہ اسے صرف جزوی نہیں بلکہ تمام منجمد اثاثوں تک مکمل رسائی دی جائے۔
ایرانی ذریعے کے مطابق واشنگٹن نے مبینہ طور پر اس بات پر زیادہ لچک دکھائی ہے کہ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں کچھ پرامن جوہری سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔
تاہم امریکہ کی جانب سے اس دعوے کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی اس نے مذاکرات میں کسی معاہدے یا شرط پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ نے مذاکرات کے دوران ایران پر عائد تیل کی پابندیاں عارضی طور پر ہٹانے (یا نرم کرنے) پر اتفاق کیا ہے۔