Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی سینیٹ میں ایران جنگ ختم کرنے کے لیے بل، اہم رپبلکن رکن کی حمایت

فروری کے آخر میں ٹرمپ کے ایران پر حملے کے حکم کے بعد ڈیموکریٹس نے بار بار ووٹنگ کروائی (فوٹو: اے پی)
امریکی سینیٹ نے ایک قانون سازی کو آگے بڑھایا جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران جنگ سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا ہے، کیونکہ ریپبلکنز کی بڑھتی ہوئی تعداد صدر کی خواہشات کے خلاف جا رہی ہے۔
امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس بل نے 47 کے مقابلے میں 50 ووٹ حاصل کیے۔
فروری کے آخر میں ٹرمپ کے ایران پر حملے کے حکم کے بعد ڈیموکریٹس نے بار بار ووٹنگ کروائی تاکہ جنگی اختیارات کی قراردادوں کے ذریعے صدر کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ یا تو کانگریس کی منظوری حاصل کریں یا فوج واپس بلائیں۔
ریپبلکنز ان قراردادوں کو مسترد کرنے کے لیے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے، لیکن لوئیزیانا کے سینیٹر بل کیسیڈی، جو حالیہ پرائمری انتخابات میں شکست کھا چکے ہیں جہاں ٹرمپ نے ان کے مخالف کی حمایت کی تھی، نے اپنا موقف بدل کر اس قانون سازی کو آگے بڑھانے کے لیے فیصلہ کن ووٹ دیا۔
50-47 کے ووٹ نے یہ ظاہر کیا کہ چند مگر اہم ریپبلکنز ایران کے ساتھ جنگ روکنے کے لیے ووٹ دے رہے ہیں۔ اس قانون سازی پر حتمی منظوری کے لیے ووٹنگ ہوگی، لیکن وقت ابھی واضح نہیں ہے۔ منگل کو کچھ ریپبلکن سینیٹرز غیر حاضر تھے، جو اگر اپنی جنگ مخالف پالیسی برقرار رکھتے تو بل کو شکست دینے کے لیے کافی ہوتے۔
اس کے باوجود، ووٹنگ نے یہ دکھایا کہ ریپبلکنز اس تنازعے سے بڑھتی ہوئی بے چینی محسوس کر رہے ہیں جو ایک نازک جنگ بندی کی حالت میں ہے اور امریکہ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنا ہے۔
ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال (کینٹکی)، سوزن کولنز (مائن) اور لیزا مرکووسکی (الاسکا) پہلے بھی ایسی قراردادوں کے حق میں ووٹ دے چکے تھے اور انہوں نے منگل کو بھی ایسا ہی کیا۔ کیسیڈی نے پہلی بار اس قانون سازی کے حق میں ووٹ دیا۔

 

شیئر: