Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی، لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سے بڑھ گئی

ایرانی حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ لبنان میں متحرک ہے جس کی اسرائیل کے ساتھ جھڑپیں ہوتی رہی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
لبنان کی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں کے دوران مرنے والوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق وزارت صحت کی جانب سے پیر کو ایک بیان میں بتایا گیا کہ اسرائیل کے حملوں میں مرنے والوں کی تعداد تین ہزار 20 ہو گئی ہے جس میں 292 خواتین اور 211 بچے بھی شامل ہیں۔
دونوں کے درمیان لڑائی کا آغاز دو مارچ کو اس وقت شروع ہوا تھا جب ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے دو روز بعد حزب اللہ کے جنجگوؤں نے اسرائیل پر راکٹ فائر کیے۔
اس کے بعد اگرچہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے جس کو کمزور سمجھا جا رہا ہے اور حملوں کا سلسلہ بھی نہیں رک پایا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان کے علاوہ دارالحکومت بیروت اور دیگر علاقوں پر بھی حملے کیے جا چکے ہیں اور ان کے بارے میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ان میں حزب اللہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو پھر سے مسلح ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔
حزب اللہ لبنان کے اندر کافی سیاسی قوت بھی رکھتی ہے اور لبنانی حکومت کی جانب سے غیر مسلح کیے جانے کے لیے ڈالے گئے دباؤ کے جواب میں بھی کافی مزاحمت کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق لبنان میں لڑائی کی وجہ سے 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جن میں سے کچھ بیروت کی سڑکوں پر سمندر کے کنارے خیمے لگا کر ان میں پناہ لے رکھی ہے۔
لبنان پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ روزانہ کی بنیادوں پر جاری ہے حالانکہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں 17 اپریل کو جنگ بندی ہوئی جسے بعد میں جون تک بڑھایا گیا، اب بھی اسرائیلی فوجیوں کی کافی تعداد لبنان کے جنوبی حصے میں موجود ہے۔
تاہم حزب اللہ مذاکرات میں شامل نہیں ہے جبکہ اس کی جانب سے بات چیت کی مخالفت کی گئی ہے جبکہ یہ گروپ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت میں اپنے اتحادی تہران کی حمایت کرتا ہے۔
1948 میں اسرائیل بننے کے بعد سے ہی پڑوسی ممالک حالت جنگ میں ہیں۔
اسرائیلی فوج کے عریبک ترجمان آویچے اداری کی جانب سے پیر کو جنوب کے ساحلی علاقوں میں موجود لوگوں کو فضائی حملوں سے قبل وہاں سے انخلا کے لیے کہا جبکہ دوسری جانب فلسطینی اسلامی جہاد گروپ کا کہنا ہے کہ اس سے تعلق رکھنے والا ایک رکن بالبیک شہر میں بیٹی سمیت گھر پر اسرائیلی حملے میں مارا گیا ہے۔
اسرائیلی حکام حزب اللہ کی توجہ حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے پر مرکوز ہے اور مذاکرات کو سفارتی تعلقات معمول پر لانے کا ممکنہ ذریعہ قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں لبنان کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے سکیورٹی معاہدے یا جنگ بندی کے خواہاں ہیں جو ایران کے حمایت یافتہ گروپ کو غیر مسلح کرنے کے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے اسرائیلی فوج کے انخلا پر بھی توجہ مرکوز کرے۔

شیئر: