Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنانے والے ڈرون عراق سے آئے: امارات

ایران کے حمایت یافتہ گروہوں نے عراق سے کئی حملے کیے ہیں۔(فائل فوٹو: اے ایف پی)
متحدہ عرب امارات نے منگل کو کہا ہے کہ’ گزشتہ ہفتے اس کے نیوکلیئر پارو پلانٹ کو نشانہ بنانے والے ڈروان عراق سے آئے تھے۔‘
 مشرق وسطی کی  جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کے حمایت یافتہ گروہوں نے عراق سے کئی حملے کیے ہیں۔
اماراتی وزارت دفاع نے بیان میں کہا کہ’ 17 مئی 2026 کو براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ہونے والے صریح حملے کی جاری تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر تیکنیکی اور مانیٹرنگ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تینوں ڈرونز عراقی سرزمین سے بھیجے گئے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’امارت کے فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ 48 گھنٹے کے دوران  چھ ڈرونز کو انٹرسیپٹ کرکے تباہ کیا ہے۔‘
گزشتہ اتوار کو امارات نے کہا تھا کہ’ فضائی دفاعی نظام نے تین ڈرون حملوں سے نمٹا ہے، دو کو کامیابی سے روک لیا گیا جبکہ تیسرے نے الظفرہ ریجن میں واقع نیوکلیئر پاور پلانٹ کے جنریٹر کو نشانہ بنایا ہے۔‘
 بیان کے مطابق ’الظفرہ ریجن میں واقع براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اندرونی حفاظتی حصار سے باہر ایک برقی جنریٹر میں لگنے والی آگ پر فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔‘
’ ڈرون حملے کے نتیجے میں آگ بھڑکی، تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا اور نہ ہی تابکاری تحفظ کی سطح متاثر ہوئی۔‘
فیڈرل اتھارٹی برائے نیوکلیئر ریگولیشن نے تصدیق کی کہ’ واقعے سے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی سلامتی یا اس کے اہم نظاموں کی تیاری متاثر نہیں ہوئی، پلانٹ کے تمام یونٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔‘
اقوام متحدہ کے نگران ادارے نے ابوظبی کے مضافاتی علاقے میں جوہری پاور پلانٹ کے قریب ڈرون حملے پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا تھا۔

 

شیئر: