Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’مشرق وسطیٰ میں مزید تنازع غیر دانشمندانہ، جامع جنگ بندی ضروری‘، چینی صدر کی پوتن سے بات چیت

 
چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع کا مزید بڑھنا ’غیردانسشمندانہ‘ اقدام ہو گا اور ایک ’جامع جنگ بندی‘ کا مطالبہ کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے چینی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ بدھ کو روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے چینی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک جامع بندی وقت کی اہم ضرورت ہے اور جنگ دوبارہ شروع ہونا غیر مناسب بات ہو گی۔
ان کے مطابق ’مذاکرات کا جاری رہنا بہت اہم ہے۔‘
اسی طرح روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات اس غیرمعمولی بلندی تک پہنچ چکے ہیں جس کی مثال نہیں ملتی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن منگل کی رات بیجنگ پہنچے تھے اور آج ان کی چینی ہم منصب سے ملاقات ہوئی ہے۔ اس دورے کو دنیا بھر میں اس لیے بہت غور سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے چند روز بعد ہوا ہے۔
سربراہی اجلاس کے بعد ان دونوں رہنماؤں کے درمیان شام کو بھی چائے کی میز پر ملاقات ہو گی جو ایک دوسرے کو اپنا ’پرانا دوست‘ قرار دیتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے چند روز بعد ہو رہی ہے اس لیے اس کو بہت غور سے دیکھا جا رہا ہے اور اس کا ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے سے موازنہ بھی کیا جائے گا۔
چینی صدر شی جن پنگ اپنے ہاں آنے والے مہمان رہنماؤں کی چائے کی میز پر میزبانی کے لیے کافی مشہور ہیں، تاہم ایسی ملاقاتوں کے ماحول اور انداز کو اس امر کا اشارہ سمجھا جاتا ہے کہ مہمان چینی رہنما کے لیے کس قدر اہمیت کے حامل ہیں۔
مئی 2024 میں جب صدر شی جن پنگ نے روسی صدر پوتن کے ساتھ مذاکرات کی میزبانی کی تھی تو تب دونوں رہنماؤں نے ژونگ بان ہائی کی کھلی فضاؤں میں بے تکلفی سے بات چیت کی تھی، یہ مقام ماضی میں ایک شاہی باغ ہوا کرتا تھا اور وہاں اب حکمران جماعت کے دفاتر قائم ہیں۔
تاہم دوسری طرف امریکی صدر کے دورے کے موقع پر قدرے مختلف ماحول محسوس ہوا اگرچہ انہوں نے بھی چینی صدر کے ساتھ اسی مقام پر چائے پی تھی تاہم انہوں نے ٹیمپل آف ہیون کا دورہ بھی کیا تھا۔

امریکہ چین اور روس دنیا کے اہم ممالک ہیں اور ان کے رہنماؤں کے نقل و حرکت کو غور سے دیکھا جاتا ہے (فوٹو: گیٹی امیجز)

آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی سے وابستہ پیسیفک افیئرز کے ماہر گرائم سمتھ اس حواے سے کہتے ہیں کہ ’بیجنگ اس صورت حال سے لطف اندوز ہو رہا ہے کیونکہ وہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور اسے وہ اپنے عوام کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کرے گا۔‘
انہوں نے دونوں رہنماؤں کے دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’شی جن پنگ کسی حد تک دونوں عالمی رہنماؤں کے جذباتی عدم استحکام کی کیفیت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘
سیاسی، عسکری اور معاشی لحاظ سے ایک دوسرے کی شدید مخالف دو بڑی قوتوں کے رہنماؤں کے بیجنگ کے یہ غیرمعمولی دورے کافی اہمیت کے حامل ہیں اور چینی میڈیا اس صورت حال کو تقسیم کی طرف بڑھتے عالمی نظام میں چین کی اہمیت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
منگل کی شام کو بیجنگ پہنچنے پر چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے روسی صدر کا استقبال کیا تھا، ان کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا جبکہ اس موقع پر چین اور روس کے پرچم بھی لہرائے گئے۔

چین اور امریکہ کو ایک دوسرے کا معاشی حریف بھی سمجھا جاتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اس ملاقات کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے چند روز بعد ہو رہی ہے۔ چین و امریکہ کو ایک دوسرے کا حریف سمجھا جاتا ہے جبکہ روس اور امریکہ کے درمیان بھی کافی خلیج پائی جاتی ہے جو یوکرین جنگ کے باعث مزید گہری ہوئی۔
پوتن اور شی جن پنگ ایک دوسرے کو ’دوست‘ کہتے ہیں۔
صدر پوتن نے چین کا آخری دورہ ستمبر 2025 میں کیا تھا اور اس وقت تیانجن میں ہونے والے سنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی تھی اور دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کو 80 سال مکمل ہونے پر تقریب میں شرکت کے دوران فوجی پریڈ بھی دیکھی تھی اور صدر شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت بھی کی تھی۔
اس وقت صدر شی نے روسی ہم منصب کو اپنا ایک ’پرانا دوست‘ قرار دیا تھا جبکہ جواب میں صدر پوتن نے ان کو ’ڈیئر فرینڈ‘ کہا تھا۔
روسی صدر ایک ایسے وقت میں چین پہنچے ہیں جب پچھلے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں پچھلے سال کی نسبت بہتری آ رہی ہے اور رواں سال کے پہلے چار مہینوں کے دوران 2025 کی اسی مدت میں ہونے والی تجارت کے مقابلے میں 16 اعشاریہ ایک فیصد اضافہ ہوا ہے۔  

شیئر: