Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چینی ٹینکرز آبنائے ہرمز سے 40 لاکھ بیرل خام تیل لے کر گزر گئے: رپورٹ

یوان گوئی یانگ جہاز نے 27 فروری کو 20 لاکھ بیرل عراقی بصرہ خام تیل لوڈ کیا (فوٹو: روئٹرز)
مشرقِ وسطیٰ سے 40 لاکھ بیرل خام تیل لے کر روانہ ہونے والے دو چینی سپر ٹینکرز خلیج میں دو ماہ سے زیادہ انتظار کے بعد بدھ کو آبنائے ہرمز سے نکل گئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایل ایس ای جی اور کیپلر کے شپنگ ڈیٹا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ چینی پرچم بردار ویری لارج کروڈ کیریئر (ای ایک سی سی) یوان گوئی یانگ نے جنگ شروع ہونے سے ایک دن قبل 27 فروری کو 20 لاکھ بیرل عراقی بصرہ خام تیل لوڈ کیا۔
یہ جہاز، جسے یونی پیک (ایشیاء کی سب سے بڑی ریفائنری سینوپیک کا تجارتی شعبہ) نے چارٹر کیا ہے، توقع ہے کہ 4 جون کو جنوبی گوانگ ڈونگ صوبے کے شہر ماؤمنگ کے قریب شوئی ڈونگ پورٹ پہنچے گا تاکہ اپنا کارگو اتار سکے۔
ڈیٹا کے مطابق ہانگ کانگ پرچم بردار اوشن للی نے فروری کے آخر اور مارچ کے اوائل میں ایک ایک لاکھ بیرل قطری الشاہین اور عراقی بصرہ خام تیل لوڈ کیا۔
یہ جہاز، جو چینی بڑی کمپنی سینو کیم کی ملکیت ہے، توقع ہے کہ 5 جون کو مشرقی فوجیان صوبے کے کوانژو پورٹ پہنچے گا تاکہ اپنا کارگو اتار سکے۔ سینوپیک اور سینو کیم نے فوری طور پر اس رپورٹ پر جواب نہیں دیا۔
واضح رہے کہ ایران جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہو چکی ہے جہاں سے عالمی طور پر ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا تھا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہونے اور کمزور جنگ بندی برقرار رہنے کے باوجود خطے میں بدستور کشیدگی پائی جاتی ہے جس کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ وہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کو کھلی جنگ میں دھکیل سکتی ہے جبکہ اس سے عالمی سطح پر سر اٹھانے والے توانائی کے بحران کو طول بھی مل سکتا ہے۔

 

شیئر: