Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل نے احمدی نژاد کو ایران میں دوبارہ اقتدار میں لانے کا جنگی منصوبہ بنایا: نیویارک ٹائمز

احمدی نژاد اسرائیل اور امریکہ کے خلاف سخت مؤقف کے باعث مشہور ہوئے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ ابتدائی تنازع کے دوران ایک منصوبے پر غور کیا گیا جس کا مقصد سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانا تھا۔
عرب نیوز کے مطابق یہ منصوبہ، جو اسرائیلی حکام نے تیار کیا تھا، ایک خطرناک حملے پر مبنی تھا جس کے ذریعے تہران میں احمدی نژاد کو نظر بندی سے آزاد کرایا جانا تھا، ساتھ ہی کرد فورسز کے استعمال اور توانائی کے ڈھانچے پر بمباری کے ذریعے حکومت کو گرانے کی کوشش شامل تھی۔
احمدی نژاد، جو 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہے، اسرائیل اور امریکہ کے خلاف سخت مؤقف کے باعث مشہور ہوئے۔
انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کی بھرپور حمایت کی اور اپنے دورِ حکومت میں آمرانہ پالیسیوں اور اشتعال انگیز بیانات پر شدید تنقید کا سامنا کیا۔ بعد ازاں وہ ایران کے حکومتی نظام سے ٹکرا گئے، اعلیٰ رہنماؤں سے اختلافات ہوئے، سیاسی پابندیوں کا سامنا کیا اور بالآخر نظر بند کر دیے گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ ایران کے اندر سے کسی جانشین کا ابھرنا زیادہ موزوں ہوگا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ نے اس منصوبے کو وینیزویلا میں مادورو کی برطرفی جیسی کامیابی سے مشابہ قرار دیا۔ تاہم احمدی نژاد کا انتخاب واشنگٹن میں کئی حلقوں کے لیے حیران کن تھا، حتیٰ کہ ٹرمپ کے قریبی ساتھی بھی اس پر ششدر رہ گئے۔
امریکی حکام کے مطابق احمدی نژاد کو اس منصوبے کے بارے میں اعتماد میں لیا گیا تھا، لیکن ان کے تعاون کی حد واضح نہیں۔ جنگ کے پہلے دن ایک اسرائیلی فضائی حملہ ان کی رہائش گاہ پر کیا گیا، جس کا مقصد ان کی حفاظت پر مامور فورسز کو ختم کر کے ان کی رہائی کو یقینی بنانا تھا۔

یہ منصوبہ اسرائیلی حکمتِ عملی کے ایک وسیع اور کثیر مرحلہ وار خاکے کا حصہ تھا (فوٹو: اے ایف پی)

احمدی نژاد اس حملے میں زندہ بچ گئے لیکن زخمی ہوئے۔ حملے میں قریب ہی ایک سکیورٹی پوسٹ تباہ ہوئی جبکہ ان کی رہائش گاہ زیادہ تر محفوظ رہی۔ ابتدائی طور پر ایرانی میڈیا نے غلط رپورٹ دی کہ وہ مارے گئے ہیں، بعد میں وضاحت کی گئی کہ کئی محافظ ہلاک ہوئے جبکہ احمدی نژاد زندہ ہیں۔
یہ منصوبہ اسرائیلی حکمتِ عملی کے ایک وسیع اور کثیر مرحلہ وار خاکے کا حصہ تھا، جس میں پہلے ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے اور پھر اندرونی عدم استحکام پیدا کرنے کے اقدامات شامل تھے تاکہ حکومت کو کمزور کیا جا سکے۔
تاہم عملی طور پر یہ حکمتِ عملی توقع کے مطابق کامیاب نہ ہو سکی۔ ابتدائی حملوں نے نقصان پہنچایا اور اہم شخصیات کو ختم کیا، لیکن ایرانی حکومت توقع سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئی۔ اندرونی بغاوت یا نظام کو توڑنے کی کوششیں ناکام رہیں۔
امریکہ کے اندر بعض حکام ابتدا ہی سے اس منصوبے پر شکوک و شبہات رکھتے تھے، خاص طور پر احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے امکان پر۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ وہ ایرانی عوام میں مقبولیت حاصل نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی مختلف سیاسی دھڑوں کو متحد کر سکیں گے۔

ماضی کے چند انٹرویوز میں انہوں نے ٹرمپ کے فیصلے کرنے کے انداز کی تعریف کی (فوٹو: اے ایف پی)

احمدی نژاد کی حالیہ سیاسی زندگی پیچیدہ رہی ہے۔ صدارت چھوڑنے کے بعد انہوں نے ایران کی قیادت پر کرپشن اور بدانتظامی کے الزامات لگائے۔ انہوں نے کئی بار دوبارہ اقتدار میں آنے کی کوشش کی لیکن ملک کی جانچ پڑتال کرنے والی اتھارٹی نے انہیں بار بار انتخاب لڑنے سے روک دیا۔
وہ غیر ملکی حلقوں سے بھی زیادہ کھلے انداز میں بات کرنے لگے اور بعض اوقات زیادہ عملی رویہ اختیار کیا۔ ماضی کے چند انٹرویوز میں انہوں نے ٹرمپ کے فیصلے کرنے کے انداز کی تعریف کی اور ایران و امریکہ کے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش ظاہر کی، جس سے ان کی سیاسی سمت مزید پیچیدہ ہو گئی۔

شیئر: