Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چین نے یوکرین جنگ کے لیے سینکڑوں روسی فوجیوں کی تربیت کی: جرمن میڈیا کا دعویٰ

چین یوکرین جنگ میں غیر جانبداری کا دعویٰ کرتا رہا ہے (فوٹو: سپوتنک)
ایک جرمن اخبار ڈائی ولٹ نے خفیہ دستاویزات کے حوالے سے یہ کہا ہے کہ یورپی خفیہ اداروں کو یقین ہے کہ چینی فوج نے یوکرین میں جنگ کے لیے سینکڑوں روسی فوجیوں کو تربیت فراہم کی ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اخبار نے کہا کہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے گذشتہ سال کے آخر میں چین کے چھ فوجی اڈوں پر کئی سو روسی فوجیوں کو خفیہ تربیت فراہم کی۔ بدھ کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ معلومات خفیہ دستاویزات سے حاصل کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اس تربیت میں ڈرونز کے استعمال اور الیکٹرانک جوابی اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی، اور ان میں سے بہت سے روسی فوجیوں کو جلد ہی یوکرین کی جنگ میں بھیج دیا گیا، جن میں روس کی اعلیٰ درجے کی ’روبیکون‘ فرنٹ لائن ڈرون یونٹ کے اہلکار بھی شامل تھے۔
اے ایف پی اس رپورٹ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
چین نے یوکرین کے خلاف جاری روسی حملے میں غیر جانبداری کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ڈائی ولٹ کی یہ رپورٹ اس شبہے کو تقویت دیتی ہے کہ چین نے اپنے روسی اتحادی کو اس سے کہیں زیادہ مدد فراہم کی ہے جو عوامی طور پر ظاہر کی گئی ہے۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ چینی فوجیوں نے روس میں خفیہ تربیت حاصل کی ہے۔
ڈائی ولٹ کے مطابق، یورپی انٹیلی جنس ذرائع کا خیال ہے کہ قریباً 600 چینی فوجی گذشتہ سال روسی فوجی اڈوں پر تعینات رہے، جہاں انہوں نے بکتر بند جنگ، توپ خانے کے استعمال اور فضائی دفاع کے بارے میں سیکھا۔

یورپی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق قریباً 600 چینی فوجی گذشتہ سال روسی فوجی اڈوں پر تعینات رہے (فائل فوٹو: روئٹرز)

یورپی خفیہ اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس اور چین یوکرین کے زیرِاستعمال جدید یورپی اور امریکی ہتھیاروں سے متعلق وسیع معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں، جن میں وہ سازوسامان بھی شامل ہے جو روسی فوجیوں نے میدانِ جنگ سے حاصل کیا۔
’بڑھتا ہوا قریبی تعاون‘
ڈائی ولٹ کی رپورٹ کے مطابق، خاص طور پر امریکی ساختہ ہائیمارس راکٹ لانچرز، پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، جرمن ساختہ مارڈر بکتر بند گاڑیاں اور امریکی ایبرامز بکتربند جنگی ٹینک توجہ کا مرکز رہے ہیں۔
مغربی ممالک نے چین پر تنقید کی ہے کہ وہ روس کو بڑی مقدار میں ایسا سامان فراہم کر رہا ہے جو ایک سے زیادہ مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، جیسے سیمی کنڈکٹرز اور چھوٹی برقی موٹرز، جو فوجی ہتھیاروں اور شہری مصنوعات دونوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے منگل کو بیجنگ میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا خیرمقدم کیا۔
سنہ 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے چین اور روس کے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں، اور چین نے روس کی یوکرین کے ساتھ جنگ کی مذمت کرنے سے انکار کیا ہے۔
ادھر مغربی پابندیوں کے باعث روس کی تیل کی آمدنی متاثر ہوئی ہے اور وہ چین پر زیادہ انحصار کرنے لگا ہے، جو اب روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چینی فوجیوں نے بھی روس میں خفیہ تربیت حاصل کی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق، شی جن پنگ نے بدھ کو پوتن سے کہا کہ دونوں ممالک نے ’باہمی سیاسی اعتماد اور سٹریٹجک ہم آہنگی کو مسلسل مضبوط کیا ہے، اور یہ عمل ثابت قدمی کے ساتھ جاری ہے۔‘
جرمن پارلیمان کی انٹیلی جنس نگرانی کی کمیٹی کے چیئرمین مارک ہنرِشمان نے کہا کہ ’وہ ڈائی ولٹ کی رپورٹ کو مصدقہ خیال کرتے ہیں، اور یہ ’گذشتہ برسوں میں دیکھے گئے رجحانات سے مطابقت رکھتی ہے۔‘
انہوں نے اخبار ہینڈلزبلٹ کو بتایا کہ ’روس کی جارحانہ جنگ کے آغاز کے بعد روس اور چین کے درمیان بالخصوص فوجی اور معاشی شعبوں میں بڑھتا ہوا قریبی تعاون واضح ہو گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’2022 سے روسی جنگی سازوسامان کا بڑا حصہ ان چین پرزوں سے بنایا گیا ہے جو ایک سے زیادہ مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، جن میں ڈرونز کے لیے فائبر آپٹک کیبلز، چپس، انجن اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کا نظام شامل ہے۔‘

شیئر: