Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈین فوج کے حاضر سروس کرنل کو گرفتار کر لیا گیا، وجہ کیا بنی؟

ایسٹرن کمانڈ کے متعدد ٹینڈرز مذکورہ کمپنی کو مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض دیے گئے (فائل فوٹو: اے آئی)
انڈیا کے تحقیقاتی ادارے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے رشوت ستانی اور مبینہ بدعنوانی کے ایک کیس میں انڈین افوج کے حاضر سروس افسر کرنل ہمانشو بالی کو گرفتار کر لیا ہے۔
’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ کرنل ہمانشو بالی انڈین فوج کے آرمی آرڈننس کور، ایسٹرن کمانڈ، فورٹ ولیم، کولکتہ میں تعینات تھے۔
رپورٹ کے مطابق ایک اہلکار نے بتایا کہ ’سی بی آئی نے کرنل بالی سمیت چار دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد انہیں گرفتار کیا۔‘
’مقدمہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر درج کیا گیا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ متعلقہ افراد نے ایک نجی دفاعی سپلائر کمپنی کے ساتھ مل کر ٹینڈرز حاصل کرنے اور مبینہ طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے بل کلیئر کروانے کے بدلے رشوت وصول کی۔‘
ایف آئی آر کے مطابق ’قابلِ اعتماد ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق کرنل بالی نے پرائیویٹ ٹھیکیدار اور دیگر افراد کے ساتھ مل کرغیر قانونی مالی فائدے کے بدلے ناجائز سہولتیں فراہم کیں۔‘
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ ’ان مبینہ سہولتوں میں ٹینڈرز کے اجرا میں رد و بدل، ناقص معیار کے نمونوں کی منظوری اور کمپنی کے فائدے کے لیے زیرالتوا اور مبینہ طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے بلوں کی منظوری شامل تھی۔‘
سی بی آئی کے مطابق ’ایسٹرن کمانڈ کے متعدد ٹینڈرز مذکورہ کمپنی کو مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض دیے گئے۔‘
ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ مارچ اور اپریل 2026 کے دوران ایک ٹینڈر کرنل بالی اور ٹھیکیدار کے درمیان مسلسل رابطوں کے بعد کمپنی کو دیا گیا۔
سی بی آئی کا کہنا ہے کہ ’دونوں افراد نے 22 اپریل 2026 کو کولکتہ کے علاقے پارک سٹریٹ میں دفتری اوقات کے بعد ملاقات کی، جہاں مبینہ طور پر ٹینڈر سے متعلق بات چیت ہوئی، جبکہ متعلقہ کنٹریکٹ 24 اپریل کو کمپنی کو دے دیا گیا۔‘

شیئر: