Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر پوتن چین روانہ، بیجنگ امریکہ اور روس دونوں کے ساتھ مستحکم تعلقات کا خواہاں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چند روز قبل بیجنگ کا دورہ کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
روس کے صدر ولادیمیر پوتن چین کے دورے کے لیے روانہ ہو گئے جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔
ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے کو ایک ہفتے سے بھی کم وقت ہوا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق روسی صدر پوتن آج یعنی منگل اور بدھ کو چین میں موجود ہوں گے۔ اس دورے کو اس لیے بھی غور سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ بیجنگ امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ روس کے ساتھ مضبوط تعلقات کا بھی خواہاں ہے۔
کرملن کا کہنا ہے کہ صدر پوتن چینی ہم منصب کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون پر بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں بلکہ ’اہم بین الاقوامی و علاقائی معاملات‘ پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
یہ دورہ عین اس روز ہو رہا ہے جب 2001 میں چین اور روس کے درمیان دوستی کا معاہدہ ہوا تھا۔
بیجنگ میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار چائنہ اینڈ گلوبلائزشین کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل وانگ زیچن کا کہنا ہے کہ ’صدر ٹرمپ کا دورہ دنیا کی دو اہم ترین قوتوں میں دو طرفہ تعلقات مضبوط کرنے سے متعلق تھا جبکہ صدر پوتن کا دورہ ایک دیرینہ سٹریٹیجک پارٹنر کو یقین دہانی کے لیے ہے۔‘
پوتن اور شی جن پنگ ایک دوسرے کو ’دوست‘ کہتے ہیں۔
صدر پوتن نے چین کا آخری دورہ ستمبر 2025 میں کیا تھا اور اس وقت تیانجن میں ہونے والے سنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی تھی اور دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کو 80 سال مکمل ہونے پر تقریب میں شرکت کے دوران فوجی پریڈ بھی دیکھی تھی اور صدر شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت بھی کی تھی۔
اس وقت صدر شی نے روسی ہم منصب کو اپنا ایک ’پرانا دوست‘ قرار دیا تھا جبکہ جواب میں صدر پوتن نے ان کو ’ڈیئر فرینڈ‘ کہا تھا۔
اپریل میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے بیجنگ کا دورہ کیا تھا اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی تھی اور بین الاقوامی صورت حال کے تناظر میں باہمی تعلقات کو ’قیمتی‘ قرار دیا تھا۔
اس موقع پر صدر شی کا کہنا تھا کہ چین اور روس کو اپنے جائز اور مشترکہ مفادات کے دفاع اور جنوبی ممالک کے اتحاد کے تحفظ کے لیے مضبوط سٹریٹیجک تعاون کو استعمال میں لانے کی ضرورت ہے۔
کرملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اتوار کو کہا تھا کہ پوتن کے دورے سے روس کو امریکہ کی چین کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل ہوں گی اور ان پر تبادلۂ خیال کا موقع ملے گا۔
صدر ٹرمپ کے دورے کے دوران صدر شی نے امریکہ اور چین کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو دنیا کے لیے اہم قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کو ایک دوسرے کو حریف کے بجائے شراکت دار کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
دو روزہ سربراہی اجلاس کے اختتام کے موقع پر دونوں ممالک کے سربراہوں کا کہنا تھا کہ چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے ایک نئے فریم ورک پر کام کریں گے۔

شیئر: