Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ دوبارہ جنگ شروع کرنا چاہتا ہے، ایران کا الزام، تنازع ختم کرنے کی جلدی نہیں: صدر ٹرمپ

ایران کے اعلٰی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’امریکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے‘ جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران امن معاہدے پر اتفاق نہیں کرتا تو وہ اُس پر دوبارہ حملہ کریں گے۔‘
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو دوبارہ حملے کی صورت میں ’شدید ردِعمل‘ سے خبردار کیا ہے۔
اُن سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی بدھ کو یہ انتباہ کیا کہ ’اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کیے تو مشرق وسطیٰ کی جنگ خطے سے باہر تک پھیل جائے گی۔‘
پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ ’اگر ایران کے خلاف جارحیت دُہرائی گئی تو اس بار یہ علاقائی جنگ خطے سے باہر پھیل جائے گی، اور ہمارے تباہ کُن حملے آپ کو کُچل دیں گے۔‘
پاسداران انقلاب کی جانب سے یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو خبردار کیا تھا کہ ’اگر سمجھوتہ نہ ہوا تو امریکہ کو ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔‘
باقر قالیباف نے بدھ کو ایرانی میڈیا کے ذریعے جاری کیے گئے ایک آڈیو بیان میں کہا کہ ’دُشمن کی ظاہری اور خفیہ نقل و حرکت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقتصادی اور سیاسی دباؤ کے باوجود اس نے اپنے فوجی عزائم کو ترک نہیں کیا اور وہ ایک نئی جنگ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے بدھ کو واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’انہیں ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کی جلدی نہیں ہے، مِشن کے مقاصد کو حاصل کرنا اس کے خاتمے کا وقت طے کرنے سے زیادہ اہم ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا ایران کو نئی فوجی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں، جب کہ ایرانی حکام نے بھی تباہ کن جوابی کارروائی کرنے کی دھمکی دی ہے۔
فریقین کی جانب سے تندوتیز بیانات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ رابطے بھی جاری ہیں، جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے پاکستان نے ثالثی کی کوششیں بھی جاری رکھی ہوئی ہیں۔
اس سلسلے میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں بدھ کو دوبارہ تہران پہنچے جہاں انہوں نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز کو تبدیل کرتے ہوئے فریقین نے دھمکیوں میں اضافہ کردیا ہے، تاہم 8 اپریل سے ہونے والی جنگ بندی تاحال برقرار ہے۔

شیئر: